আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
نکاح کا بیان
হাদীস নং: ১৩৬৫৫
نکاح کا بیان
ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا
(١٣٦٤٩) ابو قیس اودی سے روایت ہے کہ ایک عورت جس کا نام سلمہ تھا اس کا نکاح اس کی ماں نے کیا تو یہ معاملہ سیدنا علی (رض) کے سامنے پیش ہوا تو انھوں نے کہا : کیا اس کے پاس اس کا خاوند نہیں گیا ؟ انھوں نے کہا : جی چلا گیا تو انھوں نے نکاح کو جائز قرار دیا۔
(ب) بحریہ بنت ہانی بن قبیصہ سے روایت ہے کہ انھوں نے قعقاع بن شور سے خود نکاح کیا اور اپنے خاوند کے پاس رات گزاری، ان کے باپ نے سیدنا علی (رض) کے سامنے معاملہ پیش کیا تو انھوں نے پوچھا : کیا ان کا خاوند ان کے پاس گیا ہے تو انھوں نے کہا : جی ہاں، تو سیدنا علی (رض) نے اس کے نکاح کو جائز قرار دیا۔ یہ اثر مختلف اسناد اور متون سے وارد ہے اور اس کا انحصار قیس بن اودی پر ہے اس کے عادل ہونے میں اختلاف ہے اور بحریہ مجہولہ ہے۔ دخول کی شرط تب نکاح کے صحیح ہونے کی باعث بنتی اگر یہ موقوف حدیث ثابت ہوتی۔ دخول حرام کو حلال نہیں بنا سکتا، پہلی حدیث جو سیدنا علی (رض) سے ہے جس میں ولی کی شرط ہے صحیح ہے وہی قابل اعتماد ہے۔
(ب) بحریہ بنت ہانی بن قبیصہ سے روایت ہے کہ انھوں نے قعقاع بن شور سے خود نکاح کیا اور اپنے خاوند کے پاس رات گزاری، ان کے باپ نے سیدنا علی (رض) کے سامنے معاملہ پیش کیا تو انھوں نے پوچھا : کیا ان کا خاوند ان کے پاس گیا ہے تو انھوں نے کہا : جی ہاں، تو سیدنا علی (رض) نے اس کے نکاح کو جائز قرار دیا۔ یہ اثر مختلف اسناد اور متون سے وارد ہے اور اس کا انحصار قیس بن اودی پر ہے اس کے عادل ہونے میں اختلاف ہے اور بحریہ مجہولہ ہے۔ دخول کی شرط تب نکاح کے صحیح ہونے کی باعث بنتی اگر یہ موقوف حدیث ثابت ہوتی۔ دخول حرام کو حلال نہیں بنا سکتا، پہلی حدیث جو سیدنا علی (رض) سے ہے جس میں ولی کی شرط ہے صحیح ہے وہی قابل اعتماد ہے۔
(۱۳۶۴۹) وَقَدْ قِیلَ عَنِ الشَّیْبَانِیِّ عَنْ أَبِی قَیْسٍ الأَوْدِیِّ : أَنَّ امْرَأَۃً مِنْ عَائِذِ اللَّہِ یُقَالُ لَہَا سَلَمَۃُ زَوَّجَتْہَا أُمُّہَا وَأَہْلُہَا فَرُفِعَ ذَلِکَ إِلَی عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : أَلَیْسَ قَدْ دُخِلَ بِہَا فَالنِّکَاحُ جَائِزٌ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ حَمْزَۃَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا الشَّیْبَانِیُّ فَذَکَرَہُ۔ [ضعیف]
وَرَوَاہُ أَبُو عَوَانَۃَ وَابْنُ إِدْرِیسَ عَنِ الشَّیْبَانِیِّ عَنْ بَحْرِیۃَ بِنْتِ ہَانِئِ بْنِ قَبِیصَۃَ : أَنَّہَا زَوَّجَتْ نَفْسَہَا مِنَ الْقَعْقَاعِ بْنِ شَوْرٍ وَبَاتَ عِنْدَہَا لَیْلَۃً وَجَائَ أَبُوہَا فَاسْتَعْدَی عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : أَدْخَلْتَ بِہَا؟ قَالَ: نَعَمْ فَأَجَازَ النِّکَاحَ۔ فَہَذَا أَثَرٌ مُخْتَلَفٌ فِی إِسْنَادِہِ وَمَتْنِہِ وَمَدَارُہُ عَلَی أَبِی قَیْسٍ الأَوْدِیِّ وَہُوَ مُخْتَلَفٌ فِی عَدَالَتِہِ وَبَحْرِیۃُ مَجْہُولَۃٌ۔ وَاشْتِرَاطُ الدُّخُولِ فِی تَصْحِیحِ النِّکَاحِ إِنْ کَانَ ثَابِتًا وَالدُّخُولُ لاَ یُبِیحُ الْحَرَامَ وَالإِسْنَادُ الأَوَّلُ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی اشْتِرَاطِ الْوَلِیِّ إِسْنَادٌ صَحِیحٌ فَالاِعْتِمَادُ عَلَیْہِ وَبِاللَّہِ التوفیقُ۔
وَرَوَاہُ أَبُو عَوَانَۃَ وَابْنُ إِدْرِیسَ عَنِ الشَّیْبَانِیِّ عَنْ بَحْرِیۃَ بِنْتِ ہَانِئِ بْنِ قَبِیصَۃَ : أَنَّہَا زَوَّجَتْ نَفْسَہَا مِنَ الْقَعْقَاعِ بْنِ شَوْرٍ وَبَاتَ عِنْدَہَا لَیْلَۃً وَجَائَ أَبُوہَا فَاسْتَعْدَی عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : أَدْخَلْتَ بِہَا؟ قَالَ: نَعَمْ فَأَجَازَ النِّکَاحَ۔ فَہَذَا أَثَرٌ مُخْتَلَفٌ فِی إِسْنَادِہِ وَمَتْنِہِ وَمَدَارُہُ عَلَی أَبِی قَیْسٍ الأَوْدِیِّ وَہُوَ مُخْتَلَفٌ فِی عَدَالَتِہِ وَبَحْرِیۃُ مَجْہُولَۃٌ۔ وَاشْتِرَاطُ الدُّخُولِ فِی تَصْحِیحِ النِّکَاحِ إِنْ کَانَ ثَابِتًا وَالدُّخُولُ لاَ یُبِیحُ الْحَرَامَ وَالإِسْنَادُ الأَوَّلُ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی اشْتِرَاطِ الْوَلِیِّ إِسْنَادٌ صَحِیحٌ فَالاِعْتِمَادُ عَلَیْہِ وَبِاللَّہِ التوفیقُ۔