আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
نکاح کا بیان
হাদীস নং: ১৩৬৪২
نکاح کا بیان
ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا
(١٣٦٣٦) ام المومنین سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں نکاح چار طرح ہوتے تھے : ایک صورت تو یہی تھی جیسے آج کل لوگ کرتے ہیں، ایک شخص دوسرے کے پاس اس کی زیر پرورش لڑکی یا اس کی بیٹی کے ہاں نکاح کا پیغام بھیجتا اور اس کا مہر دے کر اس سے نکاح کرتا۔ دوسرا نکاح یہ تھا کہ کوئی شوہر اپنی بیوی سے کہتا جب وہ حیض سے پاک ہوجاتی کہ تو فلاں کے پاس چلی جا اور اس سے وطی کر۔ اس مدت میں شوہر اس سے جدا رہتا اور اسے ہاتھ تک نہ لگاتا، پھر جب اس غیر مرد سے اس کا حمل ظاہر ہوجاتا جس سے وہ عارضی طور پر محبت کرتی تو حمل کے ظاہر ہونے کے بعد اس کا شوہر اگر چاہتا تو اس سے صحبت کرتا، ایسا اس لیے کرتے تھے تاکہ ان کا بچہ شریف اور عمدہ پیدا ہو۔ یہ نکاح نکاح استبضاع کہلاتا تھا۔ تیسری قسم نکاح کی یہ تھی کہ چند آدمی جو تعداد میں دس سے کم ہوتے کسی ایک عورت کے پاس آنا جانا رکھتے اور اس سے صحبت کرتے، پھر جب وہ عورت حاملہ ہوتی اور بچہ جنتی تو وضع حمل پر چند دن گزرنے کے بعد وہ عورت اپنے ان عام مردوں کو بلاتی۔ اس موقع پر ان میں سے کوئی شخص انکار نہیں کرسکتا تھا، چنانچہ وہ سب اس عورت کے پاس جمع ہوجاتے، کہتی : اے فلاں ! یہ بچہ تمہارا ہے، وہ جس کا چاہتی نام لے دیتی اور وہ لڑکا اسی کا سمجھا جاتا۔ وہ شخص اس (بات) سے انکار کی جرأت نہیں کرسکتا تھا۔ چوتھا نکاح یوں تھا کہ بہت سی عورتیں (زنا کے عوض پیسے لینے والی) ہوتی تھیں، اس طرح کی عورتیں اپنے دروازوں پر جھنڈے لگائے رہتی تھیں جو نشانی سمجھے جاتے تھے، جو بھی چاہتا ان کے پاس جاتا، اس طرح کی عورت جب حاملہ ہوتیں اور بچہ جنتیں تو اس کے پاس آنے جانے والے جمع ہوتے اور کسی قیافہ جاننے والے کو بلاتے اور بچے کا ناک وضع قطع میں سے ملتا جلتا ہوتا اس عورت کے اس لڑکے کو اسی کے ساتھ منسوب کردیتے اور وہ بچہ اس کا بیٹا کہا جاتا۔ اس سے کوئی انکار نہیں کرتا تھا، پھر جب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حق کے ساتھ رسول بن کر مبعوث ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جاہلیت کے تمام نکاحوں کو باطل قرار دے دیا صرف اس نکاح کو باقی رکھا جس کا آج کل رواج ہے۔
(۱۳۶۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ أَبُو الشَّیْخِ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی دَاوُدَ مِنْ لَفْظِہِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا عَنْبَسَۃُ جَمِیعًا عَنْ یُونُسَ بْنِ یَزِیدَ وَہَذَا لَفْظُ حَدِیثِ عَنْبَسَۃَ حَدَّثَنِی یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ قَالَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ شِہَابٍ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ- أَخْبَرَتْہُ : أَنَّ النِّکَاحَ کَانَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ عَلَی أَرْبَعَۃِ أَنْحَائٍ فَنِکَاحٌ مِنْہَا نِکَاحُ النَّاسِ الْیَوْمَ یَخْطُبُ الرَّجُلُ إِلَی الرَّجُلِ وَلِیدَتَہُ وَفِی رِوَایَۃِ ابْنِ وَہْبٍ وَلِیَّتَہُ فَیُصْدِقُہَا ثُمَّ یَنْکِحُہَا وَنِکَاحٌ آخَرُ کَانَ الرَّجُلُ یَقُولُ لاِمْرَأَتِہِ إِذَا طَہُرَتْ مِنْ طَمْثِہَا أَرْسِلِی إِلَی فُلاَنٍ اسْتَبْضِعِی مِنْہُ وَیَعْتَزِلُہَا زَوْجُہَا وَلاَ یَمَسُّہَا أَبَدًا حَتَّی یَتَبَیْنَ حَمْلُہَا مِنْ ذَلِکَ الرَّجُلِ الَّذِی تُسْتَبْضَعُ مِنْہُ فَإِذَا تَبَیَّنَ حَمْلُہَا أَصَابَہَا زَوْجُہَا إِنْ أَحَبَّ وَإِنَّمَا یَصْنَعُ ذَلِکَ رَغْبَۃً فِی نَجَابَۃِ الْوَلَدِ فَکَانَ ہَذَا النِّکَاحُ نِکَاحَ الاِسْتِبْضَاعِ۔ وَنِکَاحٌ آخَرُ یَجْتَمِعُ الرَّہْطُ دُونَ الْعَشَرَۃِ فَیَدْخُلُونَ عَلَی الْمَرْأَۃِ کُلُّہُمْ یُصِیبُہَا فَإِذَا حَمَلَتْ فَوَضَعَتْ وَمَرَّ لَیَالِی بَعْدَ أَنْ تَضَعَ حَمْلَہَا أَرْسَلَتْ إِلَیْہِمْ فَلَمْ یَسْتَطِعْ رَجُلٌ مِنْہُمْ أَنْ یَمْتَنِعَ حَتَّی یَجْتَمِعُوا عِنْدَہَا فَتَقُولُ لَہُمْ : قَدْ عَرَفْتُمُ الَّذِی کَانَ مِنْ أَمْرِکُمْ وَقَدْ وَلَدْتُ وَہَذَا ابْنُکَ یَا فُلاَنُ فَتُسَمِّی مَنْ أَحَبَّتْ مِنْہُمْ بِاسْمِہِ فَیُلْحَقُ بِہِ وَلَدُہَا۔ وَالنِّکَاحُ یَجْتَمِعُ النَّاسُ الْکَثِیرُ فَیَدْخُلُونَ عَلَی الْمَرْأَۃِ لاَ تَمْتَنِعُ مِمَّنْ جَائَ ہَا وَہُنَّ الْبَغَایَا ہُنَّ یَنْصِبْنَ عَلَی أَبْوَابِہِنَّ رَایَاتٍ تَکُنَّ عَلَمًا لِمَنْ أَرَادَہُنَّ دَخَلَ عَلَیْہِنَّ فَإِذَا حَمَلَتْ فَوَضَعَتْ حَمْلَہَا جُمِعُوا لَہَا وَدَعَوْا لَہُمُ الْقَافَۃَ ثُمَّ أَلْحَقُوا وَلَدَہَا بِالَّذِی یَرَوْنَ فَالْتَاطَہُ وَدُعِیَ ابْنَہُ لاَ یَمْتَنِعُ مِنْ ذَلِکَ
فَلَمَّا بَعَثَ اللَّہُ مُحَمَّدًا -ﷺ- بِالْحَقِّ ہَدَمَ نِکَاحَ أَہْلِ الْجَاہِلِیَّۃِ إِلاَّ نِکَاحَ أَہْلِ الإِسْلاَمِ الْیَوْمَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَنْبَسَۃَ قَالَ وَقَالَ یَحْیَی بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ فَذَکَرَہُ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۲۱۷]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا عَنْبَسَۃُ جَمِیعًا عَنْ یُونُسَ بْنِ یَزِیدَ وَہَذَا لَفْظُ حَدِیثِ عَنْبَسَۃَ حَدَّثَنِی یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ قَالَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ شِہَابٍ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ- أَخْبَرَتْہُ : أَنَّ النِّکَاحَ کَانَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ عَلَی أَرْبَعَۃِ أَنْحَائٍ فَنِکَاحٌ مِنْہَا نِکَاحُ النَّاسِ الْیَوْمَ یَخْطُبُ الرَّجُلُ إِلَی الرَّجُلِ وَلِیدَتَہُ وَفِی رِوَایَۃِ ابْنِ وَہْبٍ وَلِیَّتَہُ فَیُصْدِقُہَا ثُمَّ یَنْکِحُہَا وَنِکَاحٌ آخَرُ کَانَ الرَّجُلُ یَقُولُ لاِمْرَأَتِہِ إِذَا طَہُرَتْ مِنْ طَمْثِہَا أَرْسِلِی إِلَی فُلاَنٍ اسْتَبْضِعِی مِنْہُ وَیَعْتَزِلُہَا زَوْجُہَا وَلاَ یَمَسُّہَا أَبَدًا حَتَّی یَتَبَیْنَ حَمْلُہَا مِنْ ذَلِکَ الرَّجُلِ الَّذِی تُسْتَبْضَعُ مِنْہُ فَإِذَا تَبَیَّنَ حَمْلُہَا أَصَابَہَا زَوْجُہَا إِنْ أَحَبَّ وَإِنَّمَا یَصْنَعُ ذَلِکَ رَغْبَۃً فِی نَجَابَۃِ الْوَلَدِ فَکَانَ ہَذَا النِّکَاحُ نِکَاحَ الاِسْتِبْضَاعِ۔ وَنِکَاحٌ آخَرُ یَجْتَمِعُ الرَّہْطُ دُونَ الْعَشَرَۃِ فَیَدْخُلُونَ عَلَی الْمَرْأَۃِ کُلُّہُمْ یُصِیبُہَا فَإِذَا حَمَلَتْ فَوَضَعَتْ وَمَرَّ لَیَالِی بَعْدَ أَنْ تَضَعَ حَمْلَہَا أَرْسَلَتْ إِلَیْہِمْ فَلَمْ یَسْتَطِعْ رَجُلٌ مِنْہُمْ أَنْ یَمْتَنِعَ حَتَّی یَجْتَمِعُوا عِنْدَہَا فَتَقُولُ لَہُمْ : قَدْ عَرَفْتُمُ الَّذِی کَانَ مِنْ أَمْرِکُمْ وَقَدْ وَلَدْتُ وَہَذَا ابْنُکَ یَا فُلاَنُ فَتُسَمِّی مَنْ أَحَبَّتْ مِنْہُمْ بِاسْمِہِ فَیُلْحَقُ بِہِ وَلَدُہَا۔ وَالنِّکَاحُ یَجْتَمِعُ النَّاسُ الْکَثِیرُ فَیَدْخُلُونَ عَلَی الْمَرْأَۃِ لاَ تَمْتَنِعُ مِمَّنْ جَائَ ہَا وَہُنَّ الْبَغَایَا ہُنَّ یَنْصِبْنَ عَلَی أَبْوَابِہِنَّ رَایَاتٍ تَکُنَّ عَلَمًا لِمَنْ أَرَادَہُنَّ دَخَلَ عَلَیْہِنَّ فَإِذَا حَمَلَتْ فَوَضَعَتْ حَمْلَہَا جُمِعُوا لَہَا وَدَعَوْا لَہُمُ الْقَافَۃَ ثُمَّ أَلْحَقُوا وَلَدَہَا بِالَّذِی یَرَوْنَ فَالْتَاطَہُ وَدُعِیَ ابْنَہُ لاَ یَمْتَنِعُ مِنْ ذَلِکَ
فَلَمَّا بَعَثَ اللَّہُ مُحَمَّدًا -ﷺ- بِالْحَقِّ ہَدَمَ نِکَاحَ أَہْلِ الْجَاہِلِیَّۃِ إِلاَّ نِکَاحَ أَہْلِ الإِسْلاَمِ الْیَوْمَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَنْبَسَۃَ قَالَ وَقَالَ یَحْیَی بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ فَذَکَرَہُ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۲۱۷]