আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
نکاح کا بیان
হাদীস নং: ১৩৫০৮
نکاح کا بیان
پردے کی آیت نازل ہونے کے سبب کا بیان
(١٣٥٠٢) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں : میں دس سال کا تھا جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ میں آئے اور میری ماں مجھے یہ نصیحت کرتی تھی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت کروں۔ میں نے مدینہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دس سال خدمت کی اور جب آپ فوت ہوئے تو میں بیس سال کا تھا اور میں لوگوں کی نسبت زیادہ جانتا ہوں کہ پردے کی آیت کب نازل ہوئی اور سب سے پہلے جو آیت نازل ہوئی وہ تب جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شادی زینب بنت جحش (رض) کے ساتھ ہوئی۔ صبح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس حالت میں کی کہ آپ اس سے شادی کرنے والے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو کھانے کے لیے بلایا۔ وہ کھانے کو آئے، پھر بعض چلے گئے، اور بعض کافی دیر ٹھہرے رہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نکلے اور میں بھی آپ کے ساتھ نکلا تاکہ وہ لوگ بھی نکل پڑیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چلے اور میں بھی آپ کے ساتھ چل پڑا۔ یہاں تک کہ عائشہ کے حجرے کے پاس پہنچے۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سمجھا کہ وہ چلے گئے ہوں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس آگئے۔ میں بھی آپ کے ساتھ واپس آگیا یہاں تک کہ زینب (رض) پر داخل ہوئے تو وہ لوگ ابھی تک بیٹھے تھے، وہ گئے نہیں تھے۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس آگئے اور میں بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ واپس آگیا۔ یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عائشہ (رض) کے حجرہ کے پاس پہنچے۔ آپ نے سمجھا کہ شاید وہ چلے گئے ہوں گے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوٹ آئے اور میں بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ لوٹ آیا اور وہ جا چکے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے اور اپنے درمیان پردہ کرلیا۔ تب پردے کی آیت نازل ہوئی۔
(۱۳۵۰۲) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ابْنُ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنِی اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّہُ قَالَ أَخْبَرَنِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ الأَنْصَارِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّہُ کَانَ ابْنَ عَشْرِ سِنِینَ مَقْدَمَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- الْمَدِینَۃَ قَالَ وَکَانَ أُمَّہَاتِی یُوَاظِبْنَنِی عَلَی خِدْمَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَخَدَمْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَشْرَ سِنِینَ بِالْمَدِینَۃِ وَتُوُفِّیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَأَنَا ابْنُ عِشْرِینَ سَنَۃً فَکُنْتُ أَعْلَمَ النَّاسِ بِشَأْنِ الْحِجَابِ حِینَ أُنْزِلَ وَکَانَ أَوَّلَ مَا أُنْزِلَ فِیہِ أُنْزِلَ فِی مُبْتَنَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بِزَیْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَأَصْبَحَ رَسُولُ -ﷺ- عَرُوسًا بِہَا فَدَعَا الْقَوْمَ فَأَصَابُوا مِنَ الطَّعَامِ ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ بَقِیَ مِنْہُمْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَطَالُوا الْمُکْثَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَخَرَجَ وَخَرَجْتُ مَعَہُ لِکَیْ یَخْرُجُوا فَمَشَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَمَشَیْتُ مَعَہُ حَتَّی جَائَ عَتَبَۃَ حُجْرَۃِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا ثُمَّ ظَنَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنَّہُمْ قَدْ خَرَجُوا فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَرَجَعْتُ مَعَہُ حَتَّی دَخَلَ عَلَی زَیْنَبَ فَإِذَا ہُمْ جُلُوسٌ لَمْ یَقُومُوا فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَرَجَعْتُ مَعَہُ حَتَّی إِذَا بَلَغَ حُجْرَۃَ عَائِشَۃَ وَظَنَّ أَنْ قَدْ خَرَجُوا فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَہُ فَإِذَا ہُمْ خَرَجُوا فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بَیْنِی وَبَیْنَہُ الْحِجَابَ وَأُنْزِلَ الْحِجَابُ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ صَالِحِ بْنِ کَیْسَانَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۱۶۶۔ مسلم ۸۶]