আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
نکاح کا بیان
হাদীস নং: ১৩৪৪৩
نکاح کا بیان
ترجمہ نہیں ہے
(١٣٤٣٧) ام حبیبہ بنت ابوسفیان فرماتی ہیں کہ اے اللہ کے رسول ! کیا آپ ہماری بہن سفیان کی بیٹی کا ارادہ رکھتے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : کیا مطلب ؟ اس نے کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے شادی کریں گے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : جو تیری بہن ہے۔ آپ نے کہا : کیا تو پسند کرتی ہے ؟ اس نے کہا : جی ہاں۔ میں خود غرض نہیں ہوں اور مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ میری بہن شادی کرے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔ میں نے کہا : مجھے پتا چلا ہے کہ آپ ابوسلمہ کی بیٹی سے شادی کرنے والے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : ابو سلمہ کی بیٹی ؟ ام المومنین نے کہا : جی ہاں۔ آپ نے کہا : قسم بخدا اگر وہ میری پرورش میں گود میں نہ ہوتی تو وہ میرے لیے حلال ہوتی، وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے مجھے اور اس کے باپ کو ثوبیہ نے دودھ پلایا ہے، میرے پاس اپنی بیٹیوں اور بہنوں کے شادی کے پیغام نہ بھیجا کرو۔
(۱۳۴۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أُمِّ حَبِیبَۃَ بِنْتِ أَبِی سُفْیَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَلْ لَکَ فِی أُخْتِی بِنْتِ أَبِی سُفْیَانَ فَقَالَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- : فَاعِلٌ مَاذَا؟ ۔ قَالَتْ : تَنْکِحُہَا قَالَ : أُخْتُکِ ۔
قَالَتْ : نَعَمْ قَالَ : أَوَتُحِبِّینَ ذَلِکَ ۔ قَالَتْ : نَعَمْ لَسْتُ لَکَ بِمُخْلِیَۃٍ وَأَحَبُّ مَنْ شَرِکَنِی فِی خَیْرٍ أُخْتِی قَالَ : فَإِنَّہَا لاَ تَحِلُّ لِی ۔ قَالَتْ فَقُلْتُ : فَوَاللَّہِ لَقَدْ أُخْبِرْتُ أَنَّکَ تَخْطُبُ ابْنَۃَ أَبِی سَلَمَۃَ قَالَ : ابْنَۃَ أُمِّ سَلَمَۃَ ۔
قَالَتْ : نَعَمْ قَالَ : فَوَاللَّہِ لَوْ لَمْ تَکُنْ رَبِیبَتِی فِی حَجْرِی مَا حَلَّتْ لِی إِنَّہَا لاَبْنَۃُ أَخِی مِنَ الرَّضَاعَۃِ أَرْضَعَتْنِی وَأَبَاہَا ثُوَیْبَۃُ فَلاَ تَعْرِضْنَ عَلَیَّ بَنَاتِکُنَّ وَلاَ أَخَوَاتِکُنَّ ۔ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ہِشَامٍ وَالزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ۔ [بخاری، مسلم ۱۴۴۹]
قَالَتْ : نَعَمْ قَالَ : أَوَتُحِبِّینَ ذَلِکَ ۔ قَالَتْ : نَعَمْ لَسْتُ لَکَ بِمُخْلِیَۃٍ وَأَحَبُّ مَنْ شَرِکَنِی فِی خَیْرٍ أُخْتِی قَالَ : فَإِنَّہَا لاَ تَحِلُّ لِی ۔ قَالَتْ فَقُلْتُ : فَوَاللَّہِ لَقَدْ أُخْبِرْتُ أَنَّکَ تَخْطُبُ ابْنَۃَ أَبِی سَلَمَۃَ قَالَ : ابْنَۃَ أُمِّ سَلَمَۃَ ۔
قَالَتْ : نَعَمْ قَالَ : فَوَاللَّہِ لَوْ لَمْ تَکُنْ رَبِیبَتِی فِی حَجْرِی مَا حَلَّتْ لِی إِنَّہَا لاَبْنَۃُ أَخِی مِنَ الرَّضَاعَۃِ أَرْضَعَتْنِی وَأَبَاہَا ثُوَیْبَۃُ فَلاَ تَعْرِضْنَ عَلَیَّ بَنَاتِکُنَّ وَلاَ أَخَوَاتِکُنَّ ۔ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ہِشَامٍ وَالزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ۔ [بخاری، مسلم ۱۴۴۹]