আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
نکاح کا بیان
হাদীস নং: ১৩৪৩০
نکاح کا بیان
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں اور بیٹیوں کے نام اور بیٹیوں کی شادی
(١٣٤٢٤) زوجہ نبی حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : بنو ابوبکر بن کلاب کے ایک شخص ضحاک بن سفیان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور میں پردے کے پیچھے سن رہی تھی، کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! کیا آپ کو ام شبیب کی بہن کی طرف رغبت ہے۔ ام شبیب ضحاک کی بیوی تھیں۔ یعقوب کی روایت میں ہے کہ ضحاک بن سفیان نے ان کے بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتلایا۔ باقی اسی طرح ذکر کیا۔ امام زہری (رح) فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر بن کلاب کے بھائی عمرو بن کلاب کے قبیلے کی ایک عورت سے نکاح فرمایا۔ پھر اس (کے بالوں) میں کچھ سفیدی دیکھی تو اسے طلاق دے دی اور اس کے ساتھ دخول بھی نہیں فرمایا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبیلہ بنو جون کندی کی بہن سے شادی کی، یہ بنو فزارہ کے حلیف تھے۔ اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اللہ کی پناہ مانگی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نے بہت بڑی ذات سے پناہ مانگ لی ہے جا اپنے گھر چلی جا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو طلاق دے دی اور اس کے ساتھ دخول بھی نہیں فرمایا۔ آپ کی ایک قبطی باندی بھی تھی۔ جس کا نام ماریہ تھا۔ اس سے آپ کے بیٹے ابراہیم پیدا ہوئے۔ وہ پنگوڑھے میں ہی انتقال فرما گئے اس کی بیٹی تھی۔ اس کا نام ریحانہ بنت شمعون تھا۔ اس کا تعلق اہل کتاب کے قبیلے بنی خنافہ سے تھا۔ یہ بنو قریظہ کی ایک شاخ تھی۔ اسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آزاد فرما دیا تھا۔ بعض کا گمان ہے کہ وہ رک گئی تھی۔
(۱۳۴۲۴) وَبِہَذَا الإِسْنَادِ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَنَّ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ أَخْبَرَہُ أَنَّ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ- وَرَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : دَخَلَ الضَّحَّاکُ بْنُ سُفْیَانَ مِنْ بَنِی أَبِی بَکْرِ بْنِ کِلاَبٍ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ لَہُ وَبَیْنِی وَبَیْنَہُمَا الْحِجَابُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَلْ لَکَ فِی أُخْتِ أُمِّ شَبِیبٍ وَأُمُّ شَبِیبٍ امْرَأَۃُ الضَّحَّاکِ وَفِی رِوَایَۃِ یَعْقُوبَ فَدَّلَ الضَّحَّاکُ بْنُ سُفْیَانَ مِنْ بَنِی أَبِی بَکْرِ بْنِ کِلاَبٍ عَلَیْہَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ ذَکَرَ الْبَاقِیَ قَالَ الزُّہْرِیُّ فِی تَزَوُّجِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- امْرَأَۃً مِنْ بَنِی عَمْرِو بْنِ کِلاَبٍ إِخْوَۃِ أَبِی بَکْرِ بْنِ کِلاَبٍ رَہْطِ زُفَرَ بْنِ الْحَارِثِ فَرَأَی بِہَا بَیَاضًا فَطَلَّقَہَا وَلَمْ یَدْخُلْ بِہَا وَتَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أُخْتَ بَنِی الْجَوْنِ الْکِنْدِیِّ وَہُمْ حُلَفَائُ بَنِی فَزَارَۃَ فَاسْتَعَاذَتْ مِنْہُ فَقَالَ : لَقَدْ عُذْتِ بِعَظِیمٍ فَالْحَقِی بِأَہْلِکِ ۔ فَطَلَّقَہَا وَلَمْ یَدْخُلْ بِہَا وَکَانَتْ لَہُ سُرِّیَّۃٌ قِبطِیَّۃٌ یُقَالُ لَہَا مَارِیَۃُ فَوَلَدَتْ لَہُ غُلاَمًا یُقَالُ لَہُ إِبْرَاہِیمُ فَتُوُفِّیَ وَقَدْ مَلأَ الْمَہْدَ وَکَانَتْ لَہُ وَلِیدَۃٌ یُقَالُ لَہَا رَیْحَانَۃُ بِنْتُ شَمْعُونَ مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ مِنْ بَنِی خُنَافَۃَ وَہُمْ بَطْنٌ مِنْ بَنِی قُرَیْظَۃَ فَأَعْتَقَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَیَزْعُمُونَ أَنَّہَا قَدِ احْتَجَبَتْ۔ [ضعیف]