আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

جنازوں کا بیان

হাদীস নং: ৭০৮৩
جنازوں کا بیان
جس کا خیال ہو کہ اسے دوسرے کی مملوکہ کی زمین میں اس کی اجازت کے ساتھ دفن کیا جائے
(٧٠٨٢) عمرو بن میمون فرماتے ہیں : میں نے عمر بن خطاب (رض) کو مدینہ میں شہید ہونے سے پہلے دیکھا اور انھوں نے ان کی شہادت کا تذکرہ کیا اور اس میں یہ بات بھی ہے کہ انھوں نے اپنے بیٹے عبداللہ سے کہا : تو ام المؤمنین عائشہ (رض) کے پاس جا اور ان سے کہہ کہ عمر بن خطاب (رض) سلام پیش کرتے ہیں اور امیر المؤمنین نہ کہنا، کیونکہ اب میں امیر المؤمنین نہیں ہوں اور ان سے کہنا کہ عمر بن خطاب اپنے ساتھیوں کے ساتھ دفن ہونے کی اجازت طلب کرتے ہیں فرماتے ہیں : عبداللہ نے سلام کہا اور اجازت طلب کی پھر وہ ان کے پاس گئے تو وہ بیٹھی رو رہی تھیں تو عبداللہ نے کہا : عمر بن خطاب تمہیں سلام کہتے ہیں اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ دفن کی اجازت طلب کرتے ہیں تو انھوں نے کہا : وہ تو میرا اپنا ارادہ تھا مگر آج میں اپنے اوپر عمر (رض) کو ترجیح دیتی ہوں پس وہ آئے تو کہا گیا : یہ عبداللہ بن عمر آئے ہیں ، عمر (رض) نے کہا : مجھے اٹھاؤ تو ایک آدمی نے اپنے ساتھ ٹیک لگائی تو کہنے لگے، تیرے پاس کیا ہے ؟ عبداللہ نے کہا : امیر المؤمنین ! وہی جسے آپ پسند کرتے ہیں کہ انھوں نے اجازت دے دی ہے انھوں نے کہا : اللہ کا شکر اس جگہ سے بہتر میرے لیے اور کوئی چیز نہیں ۔ جب میں فوت ہو جاؤں تو مجھے اٹھا کے لے جانا ، پھر سلام کہنا اور کہنا کہ عمر بن خطاب اجازت طلب کرتا ہے، اگر وہ تجھے اجازت دے دیں تو مجھے داخل کرنا اور اگر وہ رد کردیں تو مجھے واپس لے آنا اور مسلمانوں کے قبرستان میں لے آنا اور پوری حدیث بیان کی۔ وہ کہتے ہیں : جب وہ فوت ہوگئے تو ہم انھیں لے کر نکلے، جب ہم وہاں پہنچے تو عبداللہ بن عمر (رض) نے سلام کیا اور کہا : عمر بن خطاب اجازت طلب کرتے ہیں تو انھوں نے کہا : انھیں داخل کرو تو انھوں نے داخل کردیا اور وہاں ان کے ساتھیوں کے ساتھ رکھا گیا۔
(۷۰۸۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ حُصَیْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ قَالَ: رَأَیْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَبْلَ أَنْ یُصَابَ بِأَیَّامٍ فِی الْمَدِینَۃِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی مَقْتَلِہِ وَفِیہِ أَنَّہُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ : انْطَلِقْ إِلَی عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ فَقُلْ یَقْرَأُ عَلَیْکِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ السَّلاَمَ وَلاَ تَقُلْ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ فَإِنِّی لَسْتُ الْیَوْمَ لِلْمُؤْمِنِینَ أَمِیرًا وَقُلْ : یَسْتَأْذِنُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَنْ یُدْفَنَ مَعَ صَاحِبَیْہِ قَالَ فَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَ ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَیْہَا فَوَجَدَہَا قَاعِدَۃً تَبْکِی فَقَالَ : یَقْرَأُ عَلَیْکِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ السَّلاَمَ وَیَسْتَأْذِنُ أَنْ یُدْفَنَ مَعَ صَاحِبَیْہِ فَقَالَتْ : قَدْ کُنْتُ أُرِیدُہُ لِنَفْسِی وَلأُوثِرَنَّہُ الْیَوْمَ عَلَی نَفْسِی قَالَ فَجَائَ فَلَمَّا أَقْبَلَ قِیلَ ہَذَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ قَدْ جَائَ قَالَ : ارْفَعُونِی فَأَسْنَدَہُ رَجُلٌ إِلَیْہِ فَقَالَ : مَا لَدَیْکَ قَالَ : الَّذِی تُحِبُّ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ قَدْ أَذِنَتْ فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّہِ مَا کَانَ شَیْئٌ أَہَمَّ إِلَی مِنْ ذَلِکَ الْمَضْطَجَعِ فَإِذَا أَنَا قُبِضْتُ فَاحْمِلُونِی ، ثُمَّ سَلِّمْ فَقُلْ یَسْتَأْذِنُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَإِنْ أَذِنَتْ لَکَ فَأَدْخِلُونِی وَإِنْ رَدَّتْنِی فَرُدُّونِی إِلَی مَقَابِرِ الْمُسْلِمِینَ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ : فَلَمَّا قُبِضَ خَرَجْنَا بِہِ فَانْطَلَقْنَا نَمْشِی فَسَلَّمَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ وَقَالَ: یَسْتَأْذِنُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَتْ : أَدْخِلُوہُ فَأُدْخِلَ فَوُضِعَ ہُنَاکَ مَعَ صَاحِبَیْہِ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری]
tahqiqতাহকীক:তাহকীক চলমান
সুনানে বাইহাকী (উর্দু) - হাদীস নং ৭০৮৩ | মুসলিম বাংলা