আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
جنازوں کا بیان
হাদীস নং: ৭০৩৩
جنازوں کا بیان
غائبانہ نمازِ جنازہ کا بیان
(٧٠٣٢) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں : ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تبوک میں تھے اور سورج اپنی روشنی اور چمک ومک کے ساتھ طلوع ہوا۔ اس نے پہلے اس طرح طلوع کو نہیں دیکھا تھا ۔ جبرائیل (علیہ السلام) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے جبرائیل ! کیا بات ہے میں نے آج دیکھا ہے کہ سورج کل سے زیادہ چمک دمک کے ساتھ طلوع ہوا ہے تو جبرائیل امین نے کہا : اس وجہ سے کہ معاویہ بن معاویہ لیثی مدینے میں فوت ہوا ہے تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس کی طرف ستر ہزار فرشتے بھیجے ہیں جو اس کے لیے دعائیں کرتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ کس بات میں ؟ جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا : وہ رات اور دن میں اپنے چلنے ، بیٹھنے اور کھڑے ہونے میں اکثر { قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ} (اخلاص) پڑھا کرتے تھے ، اے اللہ کے رسول ! کیا میں آپ کے لیے زمین قریب کروں۔ تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کا جنازہ پڑھیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ہاں “ ، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا جنازہ پڑھا اور واپس پلٹ آئے۔
(۷۰۳۲) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ ابْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا الْعَلاَئُ أَبُو مُحَمَّدٍ الثَّقَفِیُّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ قَالَ : کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بِتَبُوکَ فَطَلَعَتِ الشَّمْسَ بِضِیَائٍ وَشُعَاعٍ وَنُورٍ لَمْ أَرَہَا طَلَعَتْ فِیمَا مَضَی فَأَتَی جَبْرَیلُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : ((یَا جَبْرَیلُ مَا لِی أَرَی الشَّمْسَ الْیَوْمَ طَلَعَتْ بِضِیَائٍ وَنُورٍ وَشُعَاعٍ لَمْ أَرَہَا طَلَعَتْ فِیمَا مَضَی؟))۔ فَقَالَ : ((ذَاکَ أَنَّ مُعَاوِیَۃَ بْنَ مُعَاوِیَۃَ اللَّیْثِیَّ مَاتَ بِالْمَدِینَۃِ الْیَوْمَ فَبَعَثَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَیْہِ سَبْعِینَ أَلْفَ مَلَکٍ یُصَلُّونَ عَلَیْہِ))۔ قَالَ : ((وَفِیمَ ذَاکَ؟))۔ قَالَ : ((کَانَ یُکْثِرُ قِرَائَ ۃَ {قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ} بِاللَّیْلِ وَالنَّہَارِوفِی مَمْشَاہُ وَقِیَامِہِ وَقُعُودِہِ۔ فَہَلْ لَکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنْ أَقْبِضَ لَکَ الأَرْضَ فَتُصَلِّیَ عَلَیْہِ؟)) قَالَ : ((نَعَمْ)) ۔ فَصَلَّی عَلَیْہِ ، ثُمَّ رَجَعَ۔
الْعَلاَئُ ہَذَا ہُوَ ابْنُ زَیْدٍ وَیُقَالَ ابْنُ زَیْدَلٍ یُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ بِمَنَاکِیرَ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا الْجُنَیْدِیُّ حَدَّثَنَا الْبُخَارِیُّ قَالَ الْعَلاَئُ بْنُ زَیْدٍ أَبُو مُحَمَّدٍ الثَّقَفِی عَنْ أَنَسِ رَوَی عَنْہُ یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ مُنْکَرُ الْحَدِیثِ قَالَ الشَّیْخُ وَقَدْ رُوِیَ ہَذَا الْحَدِیثُ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ أَنَسٍ۔ [منکر۔ أخرجہ ابو یعلیٰ]
الْعَلاَئُ ہَذَا ہُوَ ابْنُ زَیْدٍ وَیُقَالَ ابْنُ زَیْدَلٍ یُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ بِمَنَاکِیرَ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا الْجُنَیْدِیُّ حَدَّثَنَا الْبُخَارِیُّ قَالَ الْعَلاَئُ بْنُ زَیْدٍ أَبُو مُحَمَّدٍ الثَّقَفِی عَنْ أَنَسِ رَوَی عَنْہُ یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ مُنْکَرُ الْحَدِیثِ قَالَ الشَّیْخُ وَقَدْ رُوِیَ ہَذَا الْحَدِیثُ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ أَنَسٍ۔ [منکر۔ أخرجہ ابو یعلیٰ]