আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
جنازوں کا بیان
হাদীস নং: ৬৯৩০
جنازوں کا بیان
عورتوں کی میت کا بیان
(٦٩٣٠) ام جعفر فرماتی ہیں کہ سیدہ فاطمہ بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اسماء ! جو عورت کے ساتھ کیا جاتا ہے وہ طریقہ مجھے بہت قبیح لگتا ہے کہ عورت پر سے کپڑا اتار لیا جاتا ہے، پھر سارا طریقہ بیان کیا تو اسماء (رض) نے کہا : اے بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا میں آپ کو وہ نہ بتاؤں جو میں نے ارض حبشہ میں دیکھا ؟ پھر انھوں نے کھجور کی تازہ شاخیں منگوائیں اور انھیں گاڑ کی اوپر کپڑا ڈال دیا تو سیدہ فاطمہ (رض) نے کہا : کس قدر اچھا اور بہترین طریقہ ہے جس سے مرد اور عورت کی پہچان ہوجاتی ہے سو جب میں فوت ہو جاؤں تو مجھے تم اور علی (رض) غسل دینا اور کسی کو میرے پاس نہ آنے دینا۔ سو جب وہ فوت ہوگئیں تو عائشہ (رض) نے ابو بکرصدیق (رض) کو شکایت کی کہ یہ خثعمیہ میرے اور بنت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان حائل ہے اور اس نے دلہن کے ہودج کی ماند ہودج بنا رکھا ہے تو ابوبکر آئے اور دروازے پر کھڑے ہوگئے اور فرمایا : اے اسماء ! تجھے کس بات نے ابھارا ہے کہ تو بنت رسول اور ازواج النبی کے درمیان حائل ہو اور دلہن کے ہودج کی مانند تو نے بنا رکھا ہے تو اسماء (رض) نے کہا : انھوں نے مجھے حکم دیا کہ مجھ پر کوئی داخل نہ ہو اور جب وہ زندہ تھیں، میں نے ایسا کر کے دکھایا تو انھوں نے مجھے کہا : میرے لیے ایسا ہی کرنا تو ابوبکر (رض) نے فرمایا : پھر تو کر جو تجھے حکم دیا گیا، پھر وہ چلے گئے اور علی (رض) و اسماء نے ان کو غسل دیا۔
(۶۹۳۰) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی عَنْ عَوْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ عَنْ أُمِّہِ أُمِّ جَعْفَرٍ بِنْتِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ وَعَنْ عُمَارَۃَ بْنِ مُہَاجِرٍ عَنْ أُمِّ جَعْفَرٍ أَنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَتْ: یَا أَسْمَائُ إِنِّی قَدِ اسْتَقْبَحْتُ مَا یُصْنَعُ بِالنِّسَائِ إِنَّہُ یُطْرَحُ عَلَی الْمَرْأَۃِ الثَّوْبُ فَیَصِفُہَا۔ فَقَالَتْ أَسْمَائُ: یَا بِنْتَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَلاَ أُرِیکِ شَیْئًا رَأَیْتُہُ بِأَرْضِ الْحَبَشَۃِ فَدَعَتْ بِجَرَائِدَ رَطْبَۃٍ فَحَنَتْہَا ، ثُمَّ طَرَحَتْ عَلَیْہَا ثَوْبًا۔ فَقَالَتْ فَاطِمَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : مَا أَحْسَنَ ہَذَا وَأَجْمَلَہُ یُعْرَفُ بِہِ الرَّجُلُ مِنَ الْمَرْأَۃِ فَإِذَا أَنَا مِتُّ فَاغْسِلِینِی أَنْتِ وَعَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ، وَلاَ تُدْخِلِی عَلَیَّ أَحَدًا فَلَمَّا تُوُفِّیَتْ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا جَائَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا تَدْخُلُ فَقَالَتْ أَسْمَائُ : لاَ تَدْخُلِی فَشَکَتْ أَبَا بَکْرٍ فَقَالَتْ: إِنَّ ہَذِہِ الْخَثْعَمِیَّۃَ تَحُولُ بَیْنِی وَبَیْنَ ابْنَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَقَدْ جَعَلَتْ لَہَا مِثْلَ ہَوْدَجِ الْعَرُوسِ۔ فَجَائَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَوَقَفَ عَلَی الْبَابِ وَقَالَ : یَا أَسْمَائُ مَا حَمَلَکِ أَنْ مَنَعْتِ أَزْوَاجَ النَّبِیِّ -ﷺ- یَدْخُلْنَ عَلَی ابْنَۃِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَجَعَلْتِ لَہَا مِثْلَ ہَوْدَجِ الْعَرُوسِ۔ فَقَالَتْ : أَمَرَتْنِی أَنْ لاَ تُدْخِلِی عَلَیَّ أَحَدًا وَأُرِیتَہَا ہَذَا الَّذِی صَنَعْتُ وَہِیَ حَیَّۃٌ فَأَمَرَتْنِی أَنْ أَصْنَعَ ذَلِکَ لَہَا۔ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : فَاصْنَعِی مَا أَمَرَتْکِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَغَسَلَہَا عَلِیٌّ وَأَسْمَائُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا۔ [منکر۔ أخرجہ ابو نعیم فی الحلبہ]