কানযুল উম্মাল (উর্দু)
نکاح کا بیان
হাদীস নং: ৪৫৮৭৩
نکاح کا بیان
مرد کا عورت پر حق
45861 ابوداریس خولانی کی روایت ہے کہ حضرت معاذ (رض) جب اہل یمن کے پاس پہنچے تو آپ (رض) سے ایک عورت نے پوچھا : اے شخص تمہیں ہمارے پاس کس نے بھیجا ہے ؟ آپ (رض) نے جواب دیا : مجھے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہاں بھیجا ہے۔ عورت بولی : اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قاصد ! کیا آپ ہمیں حدیثیں نہیں سناؤ گے ؟ فرمایا : تم کیا پوچھنا چاہتی ہو ؟ عورت بولی : مجھے بتائیے کہ مرد کا اپنی بیوی پر کیا حق ہے ؟ حضرت معاذ (رض) نے فرمایا : اسے چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتی رہے خاوند کی بات سنے اور اس کی برمانبرداری کرے۔ عورت نے پھر کہا : آپ ہمیں یہ بتائیں کہ شوہر کے بیوی پر کیا حقوق ہیں ؟ چونکہ ان چھوٹے چھوٹے بچوں کے باپ کو گھر میں چھوڑ کر آئی ہوں وہ بہت بوڑھا ہوچکا ہے۔ حضرت معاذ (رض) نے فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں معاذ کی جان ہے۔ جس وقت تم واپس جاؤ اور اپنے خاوند کو جذام کے مرض میں پاؤ کہ اس کی ناک ٹوٹ چکی ہے اور اس کی ناک کے سوراخوں سے پیپ اور خون آتا ہوا دیکھ پھر تم اپنے منہ سے اس کی ناک صاف کرو تاکہ تم اس کا حق ادا کرو پھر بھی اس کے حق کی ادائیگی تک نہیں پہنچ سکتی۔۔ رواہ ابن عساکر
45861- عن أبي إدريس الخولاني أن معاذا قدم عليهم اليمن، فقالت له امرأة: من أرسلك إلينا أيها الرجل؟ قال: أرسلني رسول الله صلى الله عليه وسلم، قالت المرأة: أفلا تحدثني يا رسول رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: سلي عما شئت، قالت: حدثني ما حق المرء على زوجته، قال لها معاذ: تتقي الله ما استطاعت وتسمع وتطيع، قالت: حدثني ما حق المرء على زوجته، فإني تركت أبا هؤلاء شيخا كبيرا في البيت، فقال: والذي نفس معاذ بيده! لو أنك ترجعين إذا رجعت إليه فوجدت الجذام قد خرق أنفه ووجدت منخريه يسيلان قيحا ودما ثم التعقتها بفيك لكيما تبلغي حقه ما بلغتيه أبدا. "كر".