কানযুল উম্মাল (উর্দু)
نکاح کا بیان
হাদীস নং: ৪৫৮৭১
نکاح کا بیان
باب زوجین کے حقوق۔۔۔شوہر کا حق
45859 ابوغزہ کی روایت ہے کہ انھوں نے ابن ارقم کا ہاتھ پکڑا اور اپنے بیوی پر لگایا وہ بولے : کیا تم مجھ سے بغض کرتی ہو ؟ وہ بولی : جی ہاں ابن ارقم نے ابوغزرہ سے کہا : بھلا تم نے ایسا کیوں کیا ؟ انھوں نے جواب دیا : میرے خلاف لوگوں کی باتیں زیادہ ہورہی ہیں۔ چنانچہ ابن ارقم حضرت عمر (رض) کی خدمت میں آئے اور انھیں واقعہ کی خبر کردی۔ حضرت عمر (رض) نے ابوغزرہ کو پیغام بھیج کر اپنے پاس بلایا ۔ جب ابوغرزہ حاضر ہوگئے تو ان سے پوچھا : تم نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ جواب دیا : میرے خلاف لوگوں کی چہ میگوئیاں زیادہ ہونے لگی تھیں حضرت عمر (رض) نے ابوغرزہ کی بیوی کو پیغام بھیج کر اپنے پاس بلایا۔ چنانچہ جب وہ حاضر ہوئی تو اس کے ساتھ اس کی ایک اجنبی پھوپھی بھی تھی۔ وہ بولی کہ اگر تجھ سے سوال کریں تو جواب دینا کہ مجھ سے حلف لیا تھا لہٰذا میں نے جھوٹ بولنا پسند کیا۔ حضرت عمر (رض) نے عورت سے پوچھا : جو کچھ تم نے کہا وہ کیوں کہا ؟ عورت بولی : چونکہ اس نے مجھ سے حلف لیا تھا لہٰذا مجھے جھوٹ بولنا ناپسند تھا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : کیوں نہیں تم عورتیں جھوٹ بولتی ہوں اور اسے خوبصورت بنا کر پیش کرتی ہو ہر گھر کی بنیاد محبت پر نہیں رکھی جاتی لیکن معاشرت کی بنیاد حسب اور اسلام پر ہے۔ رواہ ابن جریر
45859- عن أبي غرزة أنه أخذ بيد ابن الأرقم، فأدخله على امرأته فقال أتبغضيني؟ قالت: نعم، قال له ابن الأرقم: ما حملك على ما فعلت؟ قال كثرت على مقالة الناس، فأتى ابن الأرقم عمر ابن الخطاب فأخبره، فأرسل إلى أبي غرزة فقال له: ما حملك على ما فعلت؟ قال: كثرت علي مقالة الناس، فأرسل إلى امرأته فجاءته ومعها عمة منكرة فقالت: إن سألك فقولي: استحلفني فكرهت أن أكذب، فقال لها عمر: ما حملك على ما قلت؟ قالت: إنه استحلفني فكرهت أن أكذب، فقال عمر: بلى فلتكذب إحداكن ولتجمل، فليس كل البيوت تبنى على الحب، ولكن معاشرة على الأحساب والإسلام. "ابن جرير".