কানযুল উম্মাল (উর্দু)
نکاح کا بیان
হাদীস নং: ৪৫৮০৮
نکاح کا بیان
چار سو درہم سے زائدمہر کی ممانعت
45796 شعبی کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا کے بعد خطاب کرتے ہوئے فرمایا : خبردار عورتوں کے مہر میں زیادہ گرانی سے کام مت لو۔ چنانچہ مجھے جس شخص کے متعلق بھی خبر ملی کہ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چلائے ہوئے مہر سے زیادہ مقرر کیا تو زیادتی کرکے بیت المال کے حوالے کی جائے گی۔ پھر آپ منبر سے نیچے اتر آئے۔ اتنے میں قریش کی ایک عورت کھڑی ہوئی اور کہنے لگی : اے امیر المومنین ! کیا کتاب اللہ اتباع کے زیادہ لائق ہے یا آپ کا قول ؟ آپ (رض) نے جواب دیا : کتاب اللہ اتباع کے زیادہ لائق ہے اور تم نے یہ سوال کیوں کیا ؟ وہ بولی : آپ نے ابھی ابھی لوگوں کو عورتوں کے مہروں میں گرانی کرنے سے منع کیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے۔ وآتیتم احداھن قنطار افلاتاخذوا منہ شیئا۔ عورتوں میں سے جس کو تم نے (مہر میں) ڈھیروں مال دیا ہو اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لو۔ آپ (رض) نے فرمایا : اس عورت کی بات میں عمر کی بات سے زیادہ فقاھت ہے آپ نے دو یا تین بار یہ بات فرمائی۔ آپ (رض) پھر منبر پر دوبارہ تشریف لائے اور لوگوں سے فرمایا : میں نے تمہیں عورتوں کے مہروں میں گرانی کرنے سے منع کیا تھا لہٰذا آدمی جو چاہے اپنے مال میں کرے اسے پورا اختیار ہے۔ رواہ سعید ابن المنصور والبیہقی
45796- عن الشعبي قال: خطب عمر بن الخطاب فحمد الله وأثنى عليه وقال: ألا! لا تغالوا في صداق النساء، وأنه لا يبلغني عن أحد ساق أكثر من شيء ساقه رسول الله صلى الله عليه وسلم أو سيق إليه إلا جعلت فضل ذلك في بيت المال - ثم نزل، فعرضت له امرأة من قريش فقالت: يا أمير المؤمنين! لكتاب الله أحق أن يتبع أم قولك؟ قال: كتاب الله، فما ذاك؟ قالت: نهيت الناس آنفا أن يتغالوا في صداق النساء، والله تعالى يقول في كتابه {وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَاراً فَلا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئاً} فقال عمر: كل أحد أفقه من عمر - مرتين أو ثلاثا! ثم رجع إلى المنبر فقال للناس: إني كنت نهيتكم أن تغالوا في صداق النساء، فليفعل رجل في ماله ما بدا له. "ص، ق".