কানযুল উম্মাল (উর্দু)
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
হাদীস নং: ৪৩৬৪৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
مواعظ ارکان ایمان کے متعلق۔۔ از اکمال
43633 ۔۔۔ ابن المنتفق سے روایت ہے کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آ کر عرض کرنے لگا میں کس چیز کے ذریعے جہنم سے بچ سکتا ہوں ؟ اور کون سی چیز مجھے جنت میں لے جائے گی، فرمایا اگر تم سوال میں اختصار سے کام لیتے تو اچھا تھا، (مگر) تم نے بڑا اور لمبا سوال کردیا تو پھر مجھ سے سمجھ لو۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے رہنا، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا، فرض نماز قائم کرنا، فرض زکوۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، بیت اللہ کا حج وعمرہ کرنا اور جس برتاؤ کو تم لوگوں سے ناگوار سمجھو اس سے بچو اور جسے پسند کرو تو وہی کرو۔
مسند احمد، طبرانی والبغوی، ابن جریر، ابو نعیم عن رجل من قیس یقال لہ ابن المنتفق و یکنی ابا المنتفق فذکرہ طبرانی عن معن بن یزید، طبرانی عن صخر بن القعقاع الباھلی۔
مسند احمد، طبرانی والبغوی، ابن جریر، ابو نعیم عن رجل من قیس یقال لہ ابن المنتفق و یکنی ابا المنتفق فذکرہ طبرانی عن معن بن یزید، طبرانی عن صخر بن القعقاع الباھلی۔
(43633 -) لئن كنت أوجزت في المسألة لقد أعظمت وأطولت ، فاعقل عني إذا : ا عبد الله ، لا تشرك به شيئا ، وأقم الصلاة المكتوبة ، أد الزكاة المفروضة ، وصم رمضان ، وحج البيت واعتمر ، وما تحب أن يفعل بك الناس فافعله بهم ، وما تكره أن يأتي إليك الناس فذر الناس منه (حم ، طب ، والبغوي ، وابن جرير ، وأبو نعيم - عن رجل من قيس يقال له : ابن المنتفق ، ويكنى أبا المنتفق ، قال : أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت : ما ينجيني من النار ؟ وما يدخلني الجنة ؟ قال - فذكره ، طب - عن معن بن يزيد ، طب - عن صخر بن القعقاع الباهلي).