কানযুল উম্মাল (উর্দু)
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
হাদীস নং: ৪৩৬০২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
سب سے پہلا فتنہ عورتوں کی صورت میں
43589 ۔۔۔ وہ تو دو چیزیں ہیں، گفتگو اور ہدایت ، سب سے بہتر کلام ، اللہ کا ہے اور سب سے بہتر طریقہ محمد کا ہے، خبردار بدعات سے بچنا، کیونکہ بدعات سب سے برے کام ہیں ہر وہ نیا کام (جو قرون ثلثہ مشہود لہا بالخیر میں نہ ہو اور اسے ایجاد کرلیا ہو اور دین سمجھا جانے لگا ہو وہ 9 بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے، خبردار ! ایسا نہ ہو کہ تمہیں لمبے عرصہ کا موقع ملا اور تمہارے دل سخت ہوجائیں، خبردار آنے والی چیز نزدیک ہے اور دور وہ ہے جو آنے والی نہیں، آگاہ رہو بدبخت وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں بدبخت ہو اور نیک بخت وہ ہے جو دوسرے سے نصیحت حاصل کرے، خبردار مسلمان سے جنگ کفر اور اسے گالی گلوچ کرنا کھلا گناہ ہے، کسی مسلمان کے لیے روا نہیں کہ وہ کسی مسلمان سے تین ایام سے زیادہ ناراض رہے خبردار، جھوٹ سے بچنا، کیونکہ سنجیدگی اور مذاق میں جھوٹ جچتا نہیں، (اس جھوٹ کی وجہ سے) آدمی نہ اپنے بیٹے کو شمار کرتا ہے اور نہ اس کے ساتھ وفا کرتا ہے، اور جھوٹ تو گناہ کی راہ بتاتا ہے اور گناہ جہنم کی رہنمائی کرتا ہے اور سچ نیکی پر لگاتا ہے اور نیکی جنت کی راہ بتاتی ہے اور سچے شخص کو سچا اور نیک کہا جاتا ہے اور جھوٹے کو جھوٹا اور فاجر کہا جاتا ہے، خبردار ! بندہ جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں انتہائی جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔ (ابن ماجہ عن ابن مسعود)
کلام ۔۔۔ ضعیف ابن ماجہ 3 ۔ ضعیف الجامع 2063 ۔
کلام ۔۔۔ ضعیف ابن ماجہ 3 ۔ ضعیف الجامع 2063 ۔
(43589 -) إنما هما اثنتان : الكلام والهدي ، فأحسن الكلام كلام الله ، وأحسن الهدي هدي محمد ألا وإياكم ومحدثات الامور ! فان شر الامور محدثاتها ، وكل محدثة بدعة ، وكل بدعة ضلالة ، ألا ! لا يطولن عليكم الامد فتقسو قلوبكم ، ألا أن كل ما هو آت قريب ، وإنما البعيد ما ليس بآت ، ألا ! إنما الشقي من شقي في بطن أمه ، والسعيد من وعظ بغيره ، ألا ! إن قتال المؤمن كفر وسبابه فسوق ، ولا يحل لمسلم أن يهجر أخاه فوق ثلاثة ، ألا وإياكم والكذب ! فان الكذب لا يصلح لا بالجد ولا بالهزل ، ولا يعد الرجل صبيه ولا بفي له ، وإن الكذب يهدي إلى الفجور ، وإن الفجور يهدي إلى النار ، وإن الصدق يهدي إلى البر ، وإن البر يهدي إلى الجنة ، وإن يقال للصادق : صدق وبر ، ويقال للكاذب : كذب وفجر ، ألا ! وإن العبد يكذب حتى يكتب عند الله كذابا (ه - عن ابن مسعود).