কানযুল উম্মাল (উর্দু)

بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان

হাদীস নং: ৪৩৫৯৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
خرچ میں میانہ روی آدھی کمائی ہے
43581 ۔۔۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کے بعد عقل کی جڑ لوگوں سے محبت کرنا ہے ، دنیا میں محبت والوں کا جنت میں درجہ ہے اور جس کا جنت میں درجہ ہو وہ جنت میں ہوگا، اچھے انداز سے سوال کرنا آدھا علم ہے اور خرچ میں میانہ روی، آدھی گزران ہے آدھے خرچ کو باقی رکھتا ہے پرہیزگاری دو رکعتیں ملے جلے کی ہزار رکعتوں سے افضل ہیں۔ انسان کا دین اسی وقت مکمل ہوتا ہے جب اس کی عقل پوری ہوجائے اور دعاف فیصلہ غیبی کو ٹال دیتی ہے اور خفیہ صدقہ اللہ کی ناراضگی ختم کردیتا ہے اور ظاہری صڈقی بری موت سے بچاتا ہے اور لوگوں سے احسان کرنے والا آفات و ہلاکتوں کی برائی سے بچ جاتا ہے، دنیا میں نیکی والے آخرت میں بھی نیکی والے ہوں گے، اور عرف لوگوں میں تو ختم ہوجاتا ہے لیکن جس نے اسے بنایا س اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ختم نہیں ہوتا۔ (الشیرازی فی الالقاب بیہقی عن انس)

کلام ۔۔۔ ضعفیف الجامع 3072 ۔۔۔
43581- رأس العقل بعد الإيمان بالله التودد إلى الناس، وأهل التودد في الدنيا لهم درجة في الجنة، ومن كان له في الجنة درجة فهو في الجنة، ونصف العلم حسن المسألة، والاقتصاد في المعيشة نصف العيش يبقي نصف النفقة، وركعتان من رجل ورع أفضل من ألف ركعة من مخلط، وما تم دين إنسان قط حتى يتم عقله، والدعاء يرد الأمر، وصدقة السر تطفيء غضب الرب وصدقة العلانية تقي ميتة السوء، وصنائع المعروف إلى الناس تقي صاحبها مصارع السوء الآفات والهلكات، وأهل المعروف في الدنيا هم أهل المعروف في الآخرة، والعرف ينقطع فيما بين الناس ولا ينقطع فيما بين الله وبين من افتعله."الشيرازي في الألقاب، هب - عن أنس".
tahqiqতাহকীক:তাহকীক চলমান