কানযুল উম্মাল (উর্দু)
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
হাদীস নং: ৪৩৫২১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
پنج گوشی ترغیب ۔۔۔ از اکمال
43508 ۔۔۔ جنت میں کچھ کمرے ایسے ہیں کہ جب ان کے مکین ان میں ہوں گے تو انھیں باہر کی چیزیں دکھائی دیں گی اور جب باہر نکلیں گے تو اندر کی چیزیں نظر آئیں گی، کسی نے عرض کیا یار سول اللہ ! یہ کمرے کس کے لیے ہوں گے ؟ فرمایا جس نے شیریں گفتگو کی، مسلسل روزے رکھے اور کھانا کھلایا، سلام پھیلایا، اور رات کے وقت جب لوگ سو رہے تھے نماز پڑھی۔
عرض کیا گیا یا رسول اللہ ! شیریں کلام کیا ہے ؟ فرمایا سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر وللہ الحمد۔ یہ کلمات قیامت کے روز اس حال میں آئیں گے کہ ان کے آگے پیچھے دائیں فرشتے ہوں گے، عرض کیا گیا لگاتار روزوں سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا رمضان پائے تو اس کے روزے رکھے پھر رمضان پائے تو اس کے روزے رکھے۔ کسی نے عرض کیا کھانا کھلانا کیا ہے ؟ فرمایا وج چیز اہل و عیال کی ضرورت ہو انھیں کھلاؤ، کسی نے عرض کیا سلام پھیلانا کیا ہے ؟ فرمایا تمہارا اپنے بھائی سے مصافحہ کرنا اور سلام کہنا۔ کسی نے عرض کیا رات کے وقت نماز پڑھنا جب کہ لوگ سویرے ہوں کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا عشاء کی نماز پڑھنا اور یہود و نصاری سو رہے ہوں۔ (الخطیب عن ابن عباس)
عرض کیا گیا یا رسول اللہ ! شیریں کلام کیا ہے ؟ فرمایا سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر وللہ الحمد۔ یہ کلمات قیامت کے روز اس حال میں آئیں گے کہ ان کے آگے پیچھے دائیں فرشتے ہوں گے، عرض کیا گیا لگاتار روزوں سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا رمضان پائے تو اس کے روزے رکھے پھر رمضان پائے تو اس کے روزے رکھے۔ کسی نے عرض کیا کھانا کھلانا کیا ہے ؟ فرمایا وج چیز اہل و عیال کی ضرورت ہو انھیں کھلاؤ، کسی نے عرض کیا سلام پھیلانا کیا ہے ؟ فرمایا تمہارا اپنے بھائی سے مصافحہ کرنا اور سلام کہنا۔ کسی نے عرض کیا رات کے وقت نماز پڑھنا جب کہ لوگ سویرے ہوں کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا عشاء کی نماز پڑھنا اور یہود و نصاری سو رہے ہوں۔ (الخطیب عن ابن عباس)
43508- إن في الجنة لغرفا إذا كان ساكنها فيها لم يخف عليه ما خارجها، وإذا خرج عنها لم يخف عليه ما فيها! قيل: لمن هي يا رسول الله؟ قال: لمن أطاب الكلام، وأدام الصيام، وأطعم الطعام، وأفشى السلام، وصلى بالليل والناس نيام؛ قيل: يا رسول الله! وما طيب الكلام؟ قال: "سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولله الحمد" إنها تأتي يوم القيامة ولها مقدمات ومعقبات ومجنبات؛ قيل: فما إدامة الصيام: قال: من أدرك رمضان فصامه ثم أدرك رمضان فصامه، قيل: فما إطعام الطعام؟ قال: كل من قات عياله وأطعمهم، قيل: فما إفشاء السلام؟ قال: مصافحة أخيك إذا لقيته وتحيته، قيل: فما الصلاة بالليل والناس نيام؟ قال: صلاة العشاء الآخرة واليهود والنصارى نيام. "الخطيب - عن ابن عباس".