কানযুল উম্মাল (উর্দু)

بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان

হাদীস নং: ৪১৯৮৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
نیند کے آداب و اذکار
٤١٩٧١۔۔۔ (مسندعلی) ابومریم سے روایت ہے فرمایا : میں نے حضرت علی بن ابی طالب (رض) کو فرماتے سنا کہ حضرت فاطمہ (رض) دوپتھروں میں میدہ کوٹ رہی تھیں یہاں تک کہ ان کے ہاتھ میں آبلے پڑگئے : جاؤرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خادم مانگو، چنانچہ ایک یادورات ایسا کیا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو آپ کو بتایا گیا کہ فاطمہ (رض) کسی کام سے آئیں مگر آپ کے تاخیر سے آنے کی وجہ سے اپنے گھرواپس چلی گئیں تو ہمارے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور ہم لوگ سونے کے لیے اپنے بستروں میں داخل ہوچکے تھے جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اجازت طلب کی تو ہم لوگوں نے اپنے کپڑے اوڑھنے کے لیے حرکت کی آپ کو جب یہ آواز آئی تو فرمایا : اپنے لحاف میں ہی رہو ! پھر ہمارے پاس آکر ہمارے سروں کے پاس بیٹھ گئے اور اپنے پاؤں میرے اور ان کے درمیان بستر میں داخل کرلئے پھر فرمایا : مجھے پتہ چلا ہے کہ میری بیٹی کسی کام سے آئی تھی بیٹی ! کیا کام تھا یا فرمایا۔ بیٹی تمہاری کیا ضرورت ہے ؟ توفاطمہ (رض) نے اس حالت میں آپ سے گفتگو کرنے سے شرم محسوس کی تو حضرت علی (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دویاتین بارپوچھنے کے بعدان کی طرف سے جواب دیاعرض کی یارسول اللہ ! وہ آپ کے پاس آئی تھیں کہ میدہ کوٹ کوٹ کر ان کے ہاتھ آبلہ زدہ ہوگئے ہیں وہ خادم طلب کرنے آئی تھیں آپ نے فرمایا : جب تم اپنے بستروں پر آؤ تو تینتیس ٣٣ بار سبحان اللہ، تینتیس ٣٣ بار اللہ اکبر اور چونتیس ٣٤ بار الحمد للہ کہا کرو یہ شمار سو ہے یہ تمہارے لیے اس سے بہتر جو تم نے مانگی ہے۔ رواہ ابن جریر
41971- مسند علي عن أبي مريم قال سمعت علي بن أبي طالب يقول: إن فاطمة كانت تدق الدرمك بين حجرين حتى مجلت يداها فقلت لها: ائتي رسول الله صلى الله عليه وسلم فسليه خادما! ففعلت ذلك لليلة أو ليلتين، فلما رجع رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى بيته أخبر أن فاطمة أتته لحاجة فلما أبطأ عليها رجعت إلى بيتها، فأتانا رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد دخلنا فراشنا، فلما استأذن علينا تحشحشنا لنلبس علينا ثيابنا، فلما سمع ذلك قال: "كما أنتما في لحافكما"! فدخل علينا حتى جلس عند رؤسنا وأدخل رجليه بيني وبينها فقال: "حدثت أن ابنتي أتتني لحاجة لها، ما كانت حاجتك يا بنية - أو: ما كانت حاجتك يا بنتي"؟ فاستحيت فاطمة أن تكلمه على تلك الحال، وأجاب علي عنها بعد ما سألها مرتين أو ثلاثا فقال: أتتك يا رسول الله إنها كانت مجلت يداها من دق الدرمك فأتتك تسأل خادما، فقال: "ما يدوم لكما أحب إليكما أو ما سألتما"؟ قالا: ما يدوم إلينا، قال: "فإذا أويتما إلى فراشكما فسبحا ثلاثا وثلاثين، وكبرا ثلاثا وثلاثين، واحمدا أربعا وثلاثين، فذاكم مائة، فهو خير لكما مما سألتماني"."ابن جرير".
tahqiqতাহকীক:তাহকীক চলমান
কানযুল উম্মাল (উর্দু) - হাদীস নং ৪১৯৮৪ | মুসলিম বাংলা