কানযুল উম্মাল (উর্দু)
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
হাদীস নং: ৪১৯৮১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
نیند کے آداب و اذکار
٤١٩٦٨۔۔۔ عبداللہ بن عمرو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا : دو خصلتیں یا عادتیں ایسی ہیں جن کی جو مسلمان حفاظت کے ساتھ مداومت کرے گا وہ جنت میں جائے گا وہ دونوں ہیں تو آسان لیکن انھیں کرنے والے بہت تھوڑے ہیں دس مرتبہ سبحانہ اللہ دس مرتبہ الحمد للہ اور دس مرتبہ اللہ اکبرہر نماز کے بعد کہا کرے جو شمار میں ڈیڑھ سو اور میزان عمل میں ڈیڑھ ہزار ہیں۔ اور جب بستر پر آئے تو تینتیس بار سبحان اللہ تینتیس ٣٣ بار الحمد للہ اور چونتیس ٣٤ بار اللہ اکبر کہہ لیا کرتے تو زبانی شمار میں یہ سو ہے لیکن عملی میزان میں ہزار ہے اور ایک روایت میں ہے یہ اڑھائی سونکیاں ہیں اور جب دہرمی ہوگئیں تو ڈھائی ہزار ہوگئیں اور تم میں سے کون اپنے شب وروز میں ڈھائی ہزار کناہ کرتا ہے لوگوں نے کہا : یارسول اللہ ! کیسے یہ آسان ہیں اور ان پر عمل کرنے والے تھوڑے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : جب تم میں کا کوئی نماز سے فارغ ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آکر اسے کوئی کام یاددلا دیتا ہے پس وہ ان کلمات کو کہے بغیر اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور جب کوئی سونے لگتا ہے شیطان آکر اسے ان کلمات کو کہنے سے پہلے سلا دیتا ہے میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ اپنے ہاتھ پر انھیں شمار کرتے تھے۔ عبدالرزاق ابن ابی شیبۃ مسنداحمد ابوداؤد، ترمذی وقال : حسن صحیح، ابن ماجۃ وابن جریر، ابن حبان وابن السنی فی عمل یوم ولیلۃ وابن شاھین الترغیب، بیہقی فی الشعب
41968- عن عبد الله بن عمرو عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "خصلتان - أو قال: خلتان - لا يحافظ عليهما رجل مسلم إلا دخل الجنة، وهما يسيران ومن فعل بهما قليل، يسبح الله عشرا، ويحمده عشرا، ويكبره عشرا في دبر كل صلاة، فذلك مائة وخمسون باللسان، وألف وخمسمائة في الميزان؛ ويسبح ثلاثا وثلاثين، ويحمد ثلاثا وثلاثين، ويكبر أربعا وثلاثين - إذا أخذ مضجعه، فذلك مائة باللسان، وألف في الميزان - وفي لفظ: فذلك خمسون ومائتا حسنة، فإذا أضعفت كانت ألفين وخمسمائة، فأيكم يعمل في يومه وليلته ألفين وخمسمائة سيئة"! قالوا: يا رسول الله! كيف هما يسير ومن يعمل بهما قليل؟ قال: "يأتي الشيطان أحدكم إذا فرغ من صلاته فيذكره حاجة كذا وكذا فيقوم ثم لا يقولها، فإذا اضطجع يأتيه الشيطان فينومه قبل أن يقولها". فقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يعقدهن في يده."عب، ش، حم، د، ت وقال: حسن صحيح؛ هـ وابن جرير حب، وابن السني في عمل يوم وليلة وابن شاهين في الترغيب، هب".