কানযুল উম্মাল (উর্দু)
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
হাদীস নং: ৪১৮৮৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
دنیا میں ریشم پہننے والا آخرت میں ریشم سے محروم ہوگا
٤١٨٧٠۔۔۔ ابوعثمان نہدی سے روایت ہے فرمایا : ہمارے پاس حضرت عمربن خطاب (رض) کا خط آیا اس وقت ہم آزربیجان میں عتبہ بن فرقہ کے ساتھ تھے ، حمد وصلوۃ کے بعد ! ازارب اندھا کرو جوتے پہناکرو اور موڑے اتار پھینکو شلواروں سے گریز کرو اپنے باپ اسماعیل کالباس پہناکرو خبردار خوش عیشی اور عجم کی وضع قطع سے بچنا، دھوپ میں بیٹھا کرو کیونکہ یہ عربوں کا بھاپ والا غسلخانہ ہے۔ معدبن عدنان کی مشابہت اختیار کرو کھردارلباس پہنو جان کھپاؤ سواری پراچھل کر چڑھو، نشانہ بازی کرو ورزش کیا کرو۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سوائے اتنے ریشم کے اور آپ نے اپنی درمیانی انگلی سے اشارہ کیا پہننے سے منع فرمایا ہے۔ ابوذرالھروی فی الجامع، بیہقی
41870- عن أبي عثمان النهدي، قال: أتانا كتاب عمر بن الخطاب ونحن بآذربيجان مع عتبة بن أما بعد، فاتزروا وانتعلوا وارموا بالخفاف، وألقوا السراويلات، وعليكم بلباس أبيكم إسماعيل، وإياكم والتنعم وزي العجم! وعليكم بالشمس فإنها حمام العرب، وتمعددوا " واخشوشنوا " واخلولقوا " واقطعوا الركب، وارموا الأغراض، وانزوا "وإن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن لبس الحرير إلا هكذا - وأشار بأصبعه الوسطى."أبو ذر الهروي في الجامع، هب".