কানযুল উম্মাল (উর্দু)
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
হাদীস নং: ৪১৮৬৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
ممنوع لباس، ریشم،
٤١٨٥٥۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سونے کی انگوٹھی سے لکیردار مصری کپڑا اور زردرنگ کا کپڑاپہننے سے اور رکوع کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا ہے اور مجھے ایک منقش کپڑاپہنایا میں اسی میں باہرنکلی گیا تو آپ نے مجھے آدازدی علی ! میں نے یہ جوڑا تمہیں پہننے کے لیے نہیں پہنایا تھا میں واپس فاطمہ (رض) کے پاس آیا تو میں نے اس کا ایک کنارہ انھیں دے دیاگویاوہ میرے ساتھ لپٹتی جاتی تھیں تو میں نے اس کپڑے کو کاٹ دیا۔ انھوں نے کہا ابوتراب ابن ابی طالب ! تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں تم کیا لائے ؟ میں نے کہا : مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے پہننے سے منع کیا ہے اسے پہن لو اور اپنی عورتوں کو پہنادو۔ رواہ ابن جریر
41855- عن علي قال: نهاني رسول الله صلى الله عليه وسلم عن خاتم الذهب، ولبوس القسي والمعصفر، وقراءة القرآن وأنا راكع، وكساني حلة من سيراء فخرجت فيها فقال لي: "يا علي! لم أكسكها لتلبسها"، فرجعت إلى فاطمة فأعطيتها طرفها كأنها تطوي معي، فشققتها، فقالت: تربت يداك يا ابن أبي طالب! ماذا جئت به؟ قلت: نهاني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن ألبسها، فالبسها واكسي نساءك."ابن جرير".