কানযুল উম্মাল (উর্দু)
فضائل کا بیان
হাদীস নং: ৩৫৯২৬
فضائل کا بیان
حضرت عمر (رض) کا خوف خدا
35917 ۔۔۔ ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ عمر (رض) کی ابوموسیٰ اشعری سے ملاقات ہوئی تو کہا اے ابوموسیٰ کیا تم اس بات پر خوش ہو کہ تم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جو اعمال کئے وہ تمہاری نجات کا ذریعہ بن جائیں کہ برابر سرابرچھوٹ جاؤ خیر شرکا مقابلہ میں شرخیر کے مقابلہ میں ہوجائے نہ تم کو زائد کچھ ملے نہ تمہارے ذمہ کوئی حق باقی رہے ؟ تو عرض کیا نہیں اے امیر المومنین اللہ کی قسم میں بصرہ پہنچا وہاں ان میں جہالت عام تھی میں نے ان کو قرآن وسنت کی تعلیم دی میں نے ان کے ساتھ مل کر جہاد کیا اس لیے میں اللہ کے فضل کی امید رکھتاہوں تو عمر (رض) نے کہا میں تو یہ چاہتاہوں برابر سرابر ہو نہ مجھے کچھ ملے نہ میری پکڑ ہو میرا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ عمل کرنا نجات کا ذریعہ بن جائے ۔ٕٕ(راوہ ابن عساکر)
35917- عن ابن عمر أن عمر لقي أبا موسى الأشعري فقال له: يا أبا موسى! أيسرك أن عملك الذي كان مع رسول الله صلى الله عليه وسلم خلص لك وأنك خرجت من عملك كفافا خيره بشره وشره بخيره كفافا لا لك ولا عليك؟ قال: لا يا أمير المؤمنين! والله لقد قدمت البصرة وأن الجفاء فيهم لفاش فعلمتهم القرآن والسنة وغزوت بهم في سبيل الله وإني لأرجو بذلك فضله، قال عمر: لكن وددت أني خرجت من عملي خيره بشره وشره بخيره كفافا لا علي ولا لي وخلص لي عملي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم المخلص. "كر".