কানযুল উম্মাল (উর্দু)

فضائل کا بیان

হাদীস নং: ৩২৩৩১
فضائل کا بیان
حضرت ایوب (علیہ السلام)
32317 ۔۔۔ فرمایا اللہ کے نبی ایوب (علیہ السلام) کی آزمائش کا زمانہ آٹھ سال تھا ان کے قریب اور دور کے رشتہ داروں نے ان کو الگ کردیا مگر ان کے دوبھائی جوان کے خواص میں سے تھے صبح وشام ان کے پاس آتے تھے ایک دن ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا ایوب نے اللہ تعالیٰ کا اتنا بڑا گناہ کیا کہ دنیا میں اتنا بڑ ا گناہ کسی اور نے نہیں کیا تو دوسرے ساتھی نے اس سے پوچھا وہ کونسا گناہ ہی ؟ فرمایا اٹھارہ سال سے اللہ تعالیٰ نے اس پر رحم نہیں فرمایا اور اس کی تکلیف کو دور نہیں فرمایا جب شام کو یہ دونوں ان کے پاس پہنچے تو اس شخص نے ایوب (علیہ السلام) پر باتیں ذکر کردیں تو ایوب (علیہ السلام) نے کہا مجھے تم دونوں کی گفتگو کا تو علم نہیں سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے میرا ایسے دو آدمیوں پر گذر ہوا جو عجز کا اظہار کررہی اللہ کو یاد کررہے تھے میں واپس اپنی گھر لوٹا تاکہ ان دونوں کی طرف سے کفارہ اداکروں کہیں ایسا نہ ہوا کہ ناحق اللہ کا ذکر کرے۔

ایوب (علیہ السلام) قضاء حاجت کے لیے گھر سے باہر جاتے تھے جب قضاء حاجت سے فارغ ہوجاتے اور بیوی ہاتھ پکڑکرسہارا دیتی یہاں تک گھر پہنچ جاتے ایک دن ایسا ہوا کہ قضائے حاجت کے بعد آنے میں دیرلگائی تو اللہ تعالیٰ نے ایوب (علیہ السلام) کی طرف اسی جگہ وحی بھیجا۔

قضائے حاجت سے آنے میں دیر لگائی پھر بیوی کی طرف توجہ کی اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان کی تکلیف دور فرما دی وہ پہلے سے زیادہ حسین ہوگئے جب بیوی نے کہا اللہ تعالیٰ تمہاری زندگی میں برکت نازل فرمائے کیا تم نے اللہ کی طرف سے آزمائش میں مبتلاء نبی کو دیکھا ہے اللہ کی قسم میں آپ کو اس نبی کے ساتھ جب وہ صحت کی حالت میں تھے زیادہ مشابہ دیکھتی ہوں تو ایوب (علیہ السلام) نے کہا وہ میں ہوں ان کے پاس دوتھیلیاں تھیں ایک گندم کی ایک جو کی اللہ تعالیٰ نے دوبدلیاں بھیجیں ایک ایک گندم کی تھیلی کے مقابل آئی اس سونا بھردی یہاں تک بہہ پڑی اور جو کی تھیلی میں چاند ی بھر دی وہ بھی بہنے لگی۔ (سمویہ ابن حبان مستدرکو الدیلمی بروایت انس (رض))
32320- إن نبي الله أيوب عليه السلام لبث به بلاؤه ثماني عشر سنة فرفضه القريب والبعيد إلا رجلين من إخوانه كانا من أخص إخوانه به كانا يغدوان إليه ويروحان فقال أحدهما لصاحبه ذات يوم: تعلم والله أن أيوب قد أذنب ذنبا ما أذنبه أحد من العالمين، فقال له صاحبه: وما ذاك؟ قال: منذ ثماني عشرة سنة لم يرحمه الله فيكشف ما به؛ فلما راحا إلى أيوب لم يصبر الرجل حتى ذكر له ذلك فقال أيوب: ما أدري ما تقولان غير أن الله تعالى يعلم أني كنت أمر بالرجلين يتراغمان فيذكران الله فأرجع إلى بيتي فأكفر عنهما كراهية أن يذكر الله إلا في حق، وكان يخرج لحاجته فإذا قضى حاجته أمسكت امرأته بيده حتى يبلغ، فلما كان ذات يوم أبطأ عليها فأوحى الله تعالى إلى أيوب في مكانه: {ارْكُضْ بِرِجْلِكَ هَذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ} فاستبطأته فأقبل عليها قد أذهب الله ما به من البلاء وهو أحسن ما كان، فلما رأته قالت: أي بارك الله فيك! هل رأيت نبي الله هذا المبتلى؟ والله على ذلك ما رأيت أشبه به منك إذ كان صحيحا قال: فإني أنا هو وكان له أندران : أندر القمح، وأندر للشعير، فبعث الله سحابتين، فلما كانت إحداهما على أندر للقمح، أفرغت فيه الذهب حتى فاض، وأفرغت الأخرى في أندر الشعير الورق حتى فاض. "سمويه، حب، ك والديلمي - عن أنس"
tahqiqতাহকীক:তাহকীক চলমান
কানযুল উম্মাল (উর্দু) - হাদীস নং ৩২৩৩১ | মুসলিম বাংলা