কানযুল উম্মাল (উর্দু)

فضائل کا بیان

হাদীস নং: ৩২১২০
فضائل کا بیان
ستر ہزار افراد بےحساب جنت میں داخل ہوں گے
32109 ۔۔۔ فرمایا میرے رب نے مجھ سے میری امت کے بارے میں مشورہ فرمایا کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ کروں ؟ میں نے عرض کیا جو معاملہ جا ہیں فرمائیں وہ آپ کے بندے اور مخلوق ہیں مجھ سے دوبارہ مشورہ فرمایا تو میں نے یہی عرض کیا تیسری مرتبہ مشورہ فرمایا میں نے وہی جواب دیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے احمد میں آپ کو آپ کی امت کے بارے میں رسوا نہیں کروں گا اللہ تعالیٰ نے مجھے بشارت دی کہ پہلی مرتبہ میری امت میں سے میرے ساتگ ستر ہزار افراد حساب جنت میں داخل ہوں گے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار پھر میرے پاس پیغام آیا مانگو تمہاری دعاء قبول ہوگی سوال کرو تمہیں عطاء کیا جائے گا میں نے اللہ تعالیٰ کے قاصد سے کہا کیا میرے رب میرے سوال کو پورا فرمائیں گے تو قاصد نے کہا آپکے پاس سوال پورا کرنے کا پیغام ہی تولے کر آیا ہوں اللہ تعالیٰ نے جو مجھے عطا فرمایا اس پر کوئی فخر نہیں اللہ تعالیٰ نے میرے اگلے پچھلے گناہوں کو معاف فرما دیا میں صحیح وسالم زندہ چل رہاہوں ؟ اور مجھے عطاء فرمایا کہ میری امت قحط سالی سے ہلاک نہ ہوگی اور استیصال کرنے والا دشمن مسلط نہ ہوگا مجھے کوثر عطاء فرمایا جو ایک جنتی نہرے حوض میں گرے گی مجھے قوت نصرت اور رعب عطاء فرمایا جو میرے سامنے ایک مہینہ کی مسافر پر چلتا ہے اور مجھے عطاء فرمایا کہ تمام انبیاء سے پہلے جنت میں داخل ہوں گا میرے لیے اور میر امت کے لیے غنیمت کو حلال قرار دیا اور بہت سی وہ چیزیں حلال کی گئیں جن کے متعلق پہلی امتوں پر سختی کی گئی تھی اور ہم پر ان میں کوئی حرج نہیں ڈالا میں اس سجدہ کے علاوہ شکر کا اور کوئی طریقہ نہیں پاتا۔ (احمد ابن عساکر بروایت حذیفہ (رض))
32109- إن ربي استشارني في أمتي ماذا أفعل بهم؟ فقلت: ما شئت يا رب هم خلقك وعبادك، فاستشارني الثانية فقلت له كذلك، فاستشارني الثالثة فقلت له كذلك، فقال تعالى: إني لن أخزيك في أمتك يا أحمد وبشرني أن أول من يدخل الجنة معي من أمتي سبعون ألفا مع كل ألف سبعون ألفا ليس عليهم حساب؛ ثم أرسل إلي: ادع تجب، وسل تعط؛ فقلت لرسوله: أو معطي ربي تعالى سؤلي؟ قال: ما أرسل إليك إلا ليعطيك، ولقد أعطاني من غير فخر، غفر لي ما تقدم من ذنبي وما تأخر وأنا أمشي حيا صحيحا، وأعطاني أن لا يجوع أمتي ولا تغلب، وأعطاني الكوثر نهرا في الجنة يسيل في حوضي، وأعطاني القوة والنصر والرعب يسعى بين يدي شهرا، وأعطاني أني أول الأنبياء دخولا الجنة، وطيب لي ولأمتي الغنيمة، وأحل لنا كثيرا مما شدد على من كان قبلنا ولم يجعل علينا في الدين من حرج؛ فلم أجد لي شكرا إلا هذه السجدة. "حم وابن عساكر - عن حذيفة".
tahqiqতাহকীক:তাহকীক চলমান
কানযুল উম্মাল (উর্দু) - হাদীস নং ৩২১২০ | মুসলিম বাংলা