কানযুল উম্মাল (উর্দু)
فتنوں کا بیان
হাদীস নং: ৩১৬৩৪
فتنوں کا بیان
حضرت علی (رض) کا تحمل
31623 ۔۔۔ (مسندعلی) ابی بحسینہ سے روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے کہا جب ہم حروریہ کے ساتھ جنگ کرکے فارغ ہوئے کہ ان میں ایک شخص کا ہاتھ ناقص تھا اس کے بازو میں ہڈی نہیں تھی اس کے بازو میں ابھار ہے عورت کے پستان کی طرح اس پر چند بال ہیں مڑے ہوئے ساتھیوں نے تلاش کیا لیکن وہ نہ مل سکا میں نے حضرت علی (رض) کو اس دن سے زیادہ پریشان کبھی نہیں دیکھاساتھیوں نے کہا : اے امیر المومنین ایسا شخص تو ہمیں نہ مل سکا تو انھوں نے فرمایا تمہارا ناس ہوا اس جگہ کا کیا نام ہے ؟ لوگوں نے بتایا : نہروان تو فرمایا تم نے جھوٹ بولا وہ ضرور ان مقتولین میں موجود ہے پھر ہم نے مقتولین (جو اوپر نیچے تھے) کو پھیلایا لیکن وہ نہ ملا تو ہم نے حضرت علی (رض) کے پاس آکرکہا اے امیر المومنین وہ ہمیں نہیں ملا تو انھوں نے پوچھا کہ اس جگہ کا نام کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا نہروان تو فرمایا اللہ اور اس کے رسول نے سچ بولا ہے اور تم جھوٹے ہو وہ ضروران مقتولین میں موجود ہے اس کو تلاش کروتو ہم نے اس کو نہر کے کنارے پر تلاش کیا تو وہ مل گیا اس کو حضرت علی (رض) کے پاس لے آئے تو میں نے اس کے بازو کو دیکھا اس پر ابھارا تھا جیسے عورت کا پستان ہوتا ہے اس پر لمبے موٹے موٹے بال تھے۔ خط
31623 (مسند علي) عن أبي بحينة قال : قال علي حين فرغنا من الحرورية : إن فيهم رجلا مخدجا ليس في عضده عظم ، في عضده حلمة كحلمة الثدي عليها شعرات طوال عقف ، فالتمسوه فلم يجدوه فما رأيت عليات جزع جزعا قط أشد من جزعه يومئذ ، فقالوا : ما نجده يا أمير المؤمنين ! فقال : ويلكم ما اسم هذا المكان ؟ قالوا : النهروان ، قال : كذبتم إنه لفيهم ، فثورنا القتلى فلم نجده فعدنا إليه فقلنا : يا أمير المؤمنين ! لم نجده ، فقال : ما اسم هذا المكان ؟ قالوا : النهروان ، قال : صدق الله ورسوله وكذبتم ، إنه لفيهم فالتمسوه ! فالتمسناه في ساقيه فجئنا به ، فنظرت إلى عضده ليس فيها عظم وعليها حلمة كحلمة ثدي المرأة عليها شعرات طوال عقف.
(خط).
(خط).