কানযুল উম্মাল (উর্দু)
فتنوں کا بیان
হাদীস নং: ৩১৬২৬
فتنوں کا بیان
خوارج کو قتل کرنے کا حکم ہے
31615 ۔۔۔ نبی ط بن شرط سے روایت ہے کہ جب حضرت علی (رض) اہل النہر کے قتل سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ مقتولین کو الٹ کر دیکھو ہم نے الٹ کر دیکھا یہاں بالکل نیچے سے ایک شخص نکلا جو سیاہ تھا اس کا کاندھا پستان کی طرح تھا حضرت علی (رض) کہا ! اللہ اکبر واللہ نہ میں نے جھوٹ بولانہ مجھے جھٹلایا گیا میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا آپ مال غنیمت تقسیم فرما رہے تھے تو یہ شخص آیا اور کہا اے محمد آپ نے انصاف نہیں کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تیری ماں تجھے روئے اگر میں انصاف نہ کروں تو کون انصاف کرے گا حضرت عمر (رض) نے کہا یا رسول اللہ اس کو قتل کردوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نہیں بلکہ اس کو چھوڑ دو کیونکہ اس کو قتل کرنے والا موجود ہے اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے۔ خط
31615 عن نبيط بن شريط قال : لما فرغ علي من قتال أهل النهر قال : اقلبوا القتلى ! فقلبناهم حتى خرج في آخرهم رجل أسود على كتفه مثل حلمة الثدي فقال علي : الله أكبر ! والله ما كذبت ولا كذبت ! كنت مع النبي صلى الله عليه وسلم وقد قسم فيئا فجاء هذا فقال : يا محمد اعدل ! فوالله ما عدلت منذ اليوم ! فقال النبي صلى الله عليه وسلم : ثكلتك أمك ! ومن يعدل عليك إذا لم أعد : فقال عمر بن الخطاب : يا رسول الله : ألا أقتله ؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم : لا ، دعه ! فان له من يقتله ، فقال : صدق الله ورسوله. (خط).