কানযুল উম্মাল (উর্দু)

فتنوں کا بیان

হাদীস নং: ৩১৬২৪
فتنوں کا بیان
خوارج کو قتل کرنے کا حکم ہے
31613 ۔۔۔ شعبی سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ فتح کیا تو غنیمت کا مال منگوایا جوان کے سامنے لاکر پھیلا یا گیا پھر ایک شخص کا نام لیا اس کو اس میں سے دیا پھر ابوسفیان بن حرب کو بلایا اس کو بھی اس میں سے دیا پھر سعیدبن حریث کو بلایا اس کو بھی اس میں سے دیا پھر قریش کی ایک جماعت کو بلایا ان کو بھی دیا ایک ایک شخص کو سونے کا ایک ایک ٹکڑا دے رہے تھے جس میں پچاس مثقال ستر مثقال یا اس جتنی مقدار سونا تھا ایک شخص کھڑا ہو اور کہا آپ دیکھ رہے ہیں یہ ٹکڑے کس کس کودے رہے ہیں پھر دوبارہ کھڑا ہوا اور اس طرح کی بات کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے اعراض فرمایا پھر تیسری مرتبہ کھڑا ہوا اور کہا آپ فیصلہ کررہے ہیں لیکن انصاف نہیں کررہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تیرا ناس ہوا گر ایسا ہوا تو میرے بعد کوئی بھی انصاف نہیں کرے گا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صدیق اکبر کو بلایا کہ جا کر اس کو قتل کردیں وہ گئے لیکن وہ شخص نہیں ملا تو آپ نے ارشاد فرمایا تم اس کو قتل کردیتے تو اس جماعت کا پہلا اور آخری شخص ہوتا۔ سعیدبن یحییٰ الدموی فی مغازیہ
31613 عن الشعبي قال : لما افتتح رسول الله صلى الله عليه وسلم مكة دعا بمال العزى فنثره بين بيديه ، ثم دعا رجلا قد سماه فأعطاه منها ، ثم دعا أبا سفيان ابن حرب فأعطاه منها ، ثم دعا سعيد بن حريث فأعطاه منها ، ثم دعا رهطا من قريش فأعطاهم فجعل يعطي الرجل القطعة من الذهب فيها خمسون مثقالا وسبعون مثقالا ونحو ذلك فقام رجل فقال : إنك لبصير حيث تضع التبر ، ثم قال الثانية فقال مثله فأعرض عنه النبي صلى الله عليه وسلم ثم قام الثالثة فقال : إنك لتحكم وما ترى عدلا ، قال : ويحك ! إذا لا يعدل أحد بعدي ، ثم دعا نبي الله صلى الله عليه وسلم أبا بكر فقال : اذهب فاقتله ! فذهب فلم يجده ، فقال : لو قتلته لرجوت أن يكون أولهم وآخرهم. (سعيد بن يحيى الاموي في معازيه).
tahqiqতাহকীক:তাহকীক চলমান
কানযুল উম্মাল (উর্দু) - হাদীস নং ৩১৬২৪ | মুসলিম বাংলা