কানযুল উম্মাল (উর্দু)
فتنوں کا بیان
হাদীস নং: ৩১৬০০
فتنوں کا بیان
سر منڈانا ہونا بھی خارجی کی علامت ہے
31589 ۔۔۔ زہری ابوسلمہ سے وابوسعید سے روایت کرتے ہیں اس دوران کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مال غنیمت تقسیم فرما رہے تھے کہ ان کے پاس ابن ذی الخوبصرہ تیمی آیا اور کہا یا رسول اللہ انصاف فرمائیں تو فرمایا تیرا ناس ہوا اگر میں انصاف نہ کروں تو کون انصاف کرے گا ؟ تو عمر بن خطاب (رض) نے کہا کہ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اجازت دیں کہ میں اس کی گردن اڑادوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ چھوڑ دو کیونکہ اس کے کچھ ساتھی ہیں تم اپنی نماز کو ان کو نماز کے مقابلہ میں اور اپنے روزوں کے ان کے روزے کے مقابلہ میں حقیر سمجھو گے وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیرکمان سے نکلتا ہے وہ اپنے تیر کے پر کو دیکھے اس میں کچھ بھی اتار نظر نہیں آئے گا اپنی کمان کو دیکھے اس میں بھی کچھ نظر نہیں آئے گا تیر کے پٹھے کو دیکھے اس میں بھی کچھ نظر نہیں آئے گا تیر کے پیکان کو دیکھے اس میں بھی کچھ نظر نہیں آئے گا وہ گوبر اور خون سے آگے نکل گیا اس قوم کی علامت یہ ہوگی کہ ان میں ایک شخص ہوگا اس کا ایک ہاتھ یا ایک پستان عورت کے پستان کی طرح ہوگا یا شرمگاہ کی طرف اس میں ابھار ہوگا کچھ وقفہ سے ظاہر ہوں گے انہی کے بارے میں آیت ومنھم من یلمزک فی الصدقالا یہ ابوسعید نے کہا کہ میں گواہی دیتاہوں میں نے یہ روایت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خود سنی اور یہ بھی گواہی دیتاہوں کہ حضرت علی (رض) نے جس وقت ان کو قتل کیا ایک شخص کو لایا گیا جس کے اندر بعینہ وہ تمام صفات موجود تھیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان فرمائیں۔ رواہ عبدالرزاق
31589 عن الزهري عن أبي سلمة عن أبي سعيد قال : بينا رسول الله صلى الله عليه وسلم يقسم قسما إذا جاءه ابن ذي الخويصرة التميمي فقال : اعدل يا رسول الله ! فقال : ويلك ! وما يعدل إذا لم أعدل ؟ فقال عمر بن الخطاب : يا رسول الله ! ائذن لي فيه فأضرب عنقه ! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : دعه ! فان له أصحابا يحقر أحدكم صلاته مع صلاتهم وصيامه مع صيامهم يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية ، فينظر في قذذه فلا يوجد فيه شئ ، ثم ينظر في نضيه فلا يوجد فيه شئ ، ثم ينظر في رصافه فلا يوجد فيه شئ ، ثم ينظر في نصله فلا يوجد فيه شئ قد سبق الفرث والدم ، آيتهم رجل أسود في إحدى يديه أو قال : إحدى ثدييه مثل ثديي المرأة أو مثل البضعة تدردر ، يخرجون على حين فترة من الناس فنزلت فيهم (ومنهم من يلمزك في الصدقات) الاية قال أبو سعيد : أشهد أني سمعت هذا من رسول الله صلى الله عليه وسلم وأشهد أن عليا حين قتلهم وأنا معه جئ بالرجل على النعت الذي نعت رسول الله صلى الله عليه وسلم (عب ، ش).