কানযুল উম্মাল (উর্দু)
فتنوں کا بیان
হাদীস নং: ৩১৫৮৮
فتنوں کا بیان
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اعتراض کرنے والا
31577 ۔۔۔ سوید بن غفلہ (رض) سے روایت ہی کہ خضر علی (رض) کچھ لوگوں سے مقابلہ کے لیے نکلے پھر ان کو قتل کردیا پھر آسمان کی طرف دیکھا پھر زمین کی طرف دیکھا پھر فرمایا اللہ اکبر اللہ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سچ فرمایا اس جگہ کی کھدائی کرو نہیں بلکہ اس جگہ کی پھر آسمان کی طرف دیکھا پھر زمین کی طرف پھر فرمایا اللہ اکبرا اللہ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سچ فرمایا اس مکان کی کھدائی کرو اس کی کھدائی کی اور مقتولین کو اس میں ڈال دیا پھر گھر میں داخل ہوئے میں بھی ان کے پاس داخل ہوا اور میں نے پوچھا آپ بتلائیے آپ ابھی کیا معاملہ کررہے تھے کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ سے اس بارے میں کوئی عہد لیا ہے ؟ تو فرمایا کہ میں آسمان سے گرپڑوں یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کروں۔ میں تومشقت اٹھانے والاہوں بتلائیے اگر آپ کہتے اگر اللہ اکبر صدق اللہ ورسولہ اس مکان کی کھدائی کروتو کیا تھا۔ ابن منیع وابن جریر
31577 عن سويد بن غفلة أن عليا أتي بناس فقتلهم ثم نظر إلى السماء ثم نظر إلى الارض فقال : الله اكبر ! صدق الله ورسوله ! احفروا هذا المكان ، لا بل هذا المكان ، ثم نظر إلى السماء ثم نظر إلى الارض ثم قال : الله أكبر ! صدق الله ورسوله ، احفروا هذا المكان ، فحفروا فألقاهم فيه ، ثم دخل فدخلت عليه فقلت : أرأيت ما كنت تصنع آنفا ؟ أعهد إليك فيهم رسول الله صلى الله عليه وسلم شيئا ؟ فقال : لان أخر من السماء أحب إلي من أن أقول على النبي صلى الله عليه وسلم ما لم يقل ، إنما أنا مكابد ، أرأيت لو قلت الله أكبر صدق الله ورسوله احفروا هذا المكان ، ما كان.
(ابن منيع وابن جرير).
(ابن منيع وابن جرير).