কানযুল উম্মাল (উর্দু)
فتنوں کا بیان
হাদীস নং: ৩১৫৮২
فتنوں کا بیان
اہل نہروان کا قتل
31571 ۔۔۔ ابوسعید سے روایت ہے علی بن ابی طالب (رض) نے فرمایا کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں سونے کا ایک ٹکڑا لے کر حاضر ہوا جو منی میں ملا ہوا تھا ان کو صدقہ وصول کرنے کے لیے یمن بھیجا گیا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ یہ مال چار شخصوں میں تقسیم کردو اقرع بن حابس زید انحیں الطانی حیینہ بن حصین فزاری علقمہ بن علاء العامری تو ایک شخص نے کہا جس کی آنکھ اندر دھنسی ہوئی تھی بھنویں کٹی ہوئی کشادہ پیشانی اور سر منڈا ہوا اس نے اعتراض کیا واللہ ماعدلت اللہ کی قسم آپ نے انصاف نہیں کیا اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تیرا ناس ہواکر میں بھی انصاف نہ کروں تو پھر دنیا میں کوئی انصاف کرے گا ؟ میں نے تو تالیف قلوب کی خاطر ایسا کیا ہے تو صحابہ (رض) اس کو قتل کرنے کے لیے آگے بڑھے لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمادیا اور فرمایا کہ آخری زمانہ میں میرے خاندان کے کچھ لوگ نکلیں گے جو اہل اسلام کو قتل کریں گے لیکن مشرکین کو چھوڑ دیں گے اگر ایسے لوگوں کو پاؤں تو ان کو قوم عاد کی طرح قتل کروں گا۔ ابن عاصم
31571 عن أبي سعيد قال : قال علي بن أبي طالب : أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم بذهبة في تربتها وكان بعثه مصدقا على اليمن فقال : اقسمها بين أربعة بين الاقرع بن حابس ، وزيد الخيل الطائي ، وعيينه بن حصن الفزاري ، وعلقمة بن علاثة العامري ! فقال رجل غائر العينين ناتئ الجبين مشرف الجبهة محلوق الرأس فقال : والله ما عدلت ، فقال : ويلك ! من يعدل إذا لم أعدل ؟ إنما أتألفهم ، فأقبلوا عليه لقتلوه فقال : اتركوه ! فان من ضئضئي هذا قوما يخرجون في آخر الزمان يقتلون أهل الاسلام ويتركون أهل الاوثان ، لئن أدركتهم لاقتلتهم قتل عاد.
(ابن أبي عاصم).
(ابن أبي عاصم).