কানযুল উম্মাল (উর্দু)
فتنوں کا بیان
হাদীস নং: ৩১৫৭১
فتنوں کا بیان
خوارج کو قتل کرنے کی فضیلت
31560 ۔۔۔ (مسند علی) زید بن وھب سے روایت ہے کہ حضرت علی (رض) خوارج کی ایک جماعت کے پاس آئے ان میں ایک شخص تھا جسے جعد بن نعجہ کہا جاتا تھا ۔ اس نے کہا ” انق اللہ یاعلی “ اے علی اللہ سے ڈرو کیونکہ تم بھی مرنے والے ہو حضرت علی (رض) نے فرمایا بلکہ شہید ہونے والاہوں اس پر ایک ضرب اس کو رنگین بنادے گی حضرت علی (رض) اپنے سر اور ڈاڑھی کی طرف اشارہ فرمایا اپنے ہاتھ سے یہ تقدیر نافذ ہو کر رہے گی یہ عہد پورا ہو کر رہے گا وہ ناکام ہواجس نے جھوٹ باندھا پھر حضرت علی (رض) کو ان کے لباس کے متعلق عیب لگایا اور کہا کہ اگر آپ اس سے اچھا لباس پہن لیتے حضرت علی (رض) نے فرمایا کہ تمہیں میرے لباس سے کیا واسطہ ؟ میرا یہ لباس مجھے کبر سے بہت دور رکھتا ہے اور اس قابل ہے کہ اس میں مسلمان میری اقتداء کرے۔ (طبرانی وابن ابی عاصم فی السنہ احمد فی الزھد والبغوی فی الجعدیات مستدرک بیہقی فی الدلائل ضیاء مقدسی )
31560 (مسند علي) عن زيد بن وهب قال : قدم علي على قوم من الخوارج فيهم رجل يقال له الجعد بن نعجة فقال له : اتق الله يا علي ! فانك ميت فقال علي : بل مقتول ضربة على هذه تخضب هذه - وأشار علي إلى رأسه ولحيته بيده - قضاء مقضي وعهد معهود ، وقد خاب من افترى ، ثم عاتب عليا في لباسه : فقال : لو لبست لباسا خيرا من هذا ! فقال : مالك وللباسي ! إن لباسي هذا أبعد لي من الكبر وأجدر أن يقتدي بي المسلمون. (ط وابن أبي عاصم في السنة ، عم ، حم في الزهد والبغوي في الجعديات ، ك ، ق في الدلائل ، ض).