কানযুল উম্মাল (উর্দু)
طلاق کا بیان
হাদীস নং: ২৮০৫১
طلاق کا بیان
حلال کا بیان :
28051 ۔۔۔ ابن سیرین (رح) کی روایت ہے کہ ایک عورت کو اس کے خاوند نے تین طلاقیں دیں ایک مسکین اعرابی مسجد کے دروازے پر بیٹھ جاتا تھا اس کے پاس ایک عورت آئی اور کہنے لگی : کیا تمہیں ایک عورت میں رغبت ہے کہ اس سے نکاح کرلو اس کے ساتھ رات بسر کرو اور صبح کو اسے الگ کر دو ؟ اعرابی بولا : جی ہاں ایسا ہوجائے گا ، چنانچہ ایسا ہی ہوا ۔ جب رات بیوی کے پاس بسر کی عورت نے کہا : صبح ہوتے ہی یہ لوگ تمہارے پاس آئیں گے ممکن ہے کہیں : اپنی بیوی سے الگ ہوجاؤ تم ایسا مت کرنا میں تیرے پاس ہی رہنا چاہتی ہوں ۔ چنانچہ صبح کو لوگ اعرابی کے پاس بھی آئے اور عورت کے پاس بھی آئے عورت نے کہا : اعرابی سے بات کرو ، چنانچہ لوگوں نے اعرابی سے الگ ہوجانے کے متعلق بات کی ، اعرابی نے انکار کردیا اعرابی سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس چلا گیا سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : اپنی بیوی سے چمٹے رہو اگر یہ لوگ تمہیں دھمکی دیں میرے پاس آجاؤ پھر سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے عورت کی طرف پیغام بھیج کر اس کی رائے بھی معلوم کرلی، چنانچہ یہ اعرابی صبح وشام خوبصورت جوڑے زیب تن کئے ہوئے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس آتا رہتا۔ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) فرماتے : تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے تمہیں یہ عمدہ جوڑا پہنایا جس میں تم صبح وشام چلتے پھرتے ہو ۔ (رواہ الشافعی والبیہقی)
28051- عن ابن سيرين "أن امرأة طلقها زوجها ثلاثا وكان مسكين أعرابي يقعد بباب المسجد فجاءته امرأة فقالت: هل لك في امرأة تنكحها فتبيت معها الليلة وتصبح فتفارقها؟ فقال: نعم فكان ذلك، فقالت له امرأته: إنك إذا أصبحت فإنهم سيقولون لك: فارقها فلا تفعل ذلك فإني مقيمة لك ما ترى، وذهب إلى عمر، فلما أصبحت أتوه وأتوها فقالت: كلموه فأنتم جئتم فكلموه فأبى فانطلق إلى عمر فقال: الزم امرأتك فإن رابوك بريب فائتني وأرسل إلى المرأة التي مشت لذلك فنكل بها، ثم كان يغدو على عمر ويروح في حلة فيقول: الحمد لله الذي كساك يا ذا الرقعتين حلة تغدو فيها وتروح". "الشافعي، ق".