কানযুল উম্মাল (উর্দু)
طلاق کا بیان
হাদীস নং: ২৮০০৪
طلاق کا بیان
عدت وفات :
28004 ۔۔۔ فریعہ بنت مالک کے خاوند کچھ لوگوں کی تلاش میں نکلے حتی کہ راستے ہی میں قدوم پہاڑ کے قریب لوگوں کو پالیا ان لوگوں نے اسے قتل کردیا ، فریعہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا : میرا خاوند قتل ہوگیا ہے اور مجھے ایسے گھر میں رکھا ہے جو اس کی ملکیت نہیں ، فریعہ (رض) نے وہاں سے منتقل ہونے کی اجازت طلب کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے اجازت دی وہ چل پڑی جب حجرے کے دروازے پر پہنچی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے واپس بلایا ، فریعہ واپس لائی گئی آپ نے فرمایا : مجھے دوبارہ اپنی بات سناؤ اس نے بات سنائی آپ نے حکم دیا کہ عدت پوری ہونے کے بعد گھر سے باہر جاسکتی ہو ، ایک روایت میں ہے۔ آپ نے فرمایا : اپنے گھر ٹھہری رہو حتی کہ تمہاری عدت چار ماہ دس دن گزر جائیں ، پھر سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) کے زمانے میں آپ (رض) کے پاس ایک عورت آئی اور گھر سے منتقل ہونے کے متعلق سوال کیا : عثمان (رض) نے کہا : منتقل ہوجاؤ پھر اپنے پاس بیٹھنے والوں سے کہا : کیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یا میرے دو صاحبوں سے اس کے متعلق کوئی اثر (حدیث) منقول ہے فریعہ کہتی ہے۔ سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) سے میرا ذکر کیا گیا : آپ (رض) نے مجھے پیغام بھیجا اور یہی سوال پوچھا میں نے انھیں خبر دی انھوں نے میری بات پر اعتماد کرلیا اور عورت کو حکم دیا کہ کہ اپنے شوہر کے گھر سے باہر نہ نکلو تاوقتیکہ عدت پوری ہوجائے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
28004- عن فريعة بنت مالك "أن زوجها خرج في طلب أعلاج له حتى إذا كان بطريق القدوم وهو جبل أدركهم فقتلوه قالت: فأتت النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت أن زوجها قتل، وأنه تركها في مسكن ليس له واستأذنته في الانتقال فأذن لها، فانطلقت حتى إذا كانت بباب الحجرة أمر بها فردت، وأمرها أن تعيد عليه حديثها ففعلت فأمرها أن تخرج حتى يبلغ الكتاب أجله، وفي لفظ: فقال: "امكثي في بيتك حتى يبلغ الكتاب أجله أربعة أشهر وعشرا"، قال: فلما كان زمن عثمان أتته امرأة تسأله عن ذلك فقال: افعلي ثم قال لمن حوله: هل مضى من النبي صلى الله عليه وسلم أو من صاحبي في مثل هذا شيء؟ قالت فريعة: فذكرت له فأرسل إلي فسألني فأخبرته فانتهى إلى قولي وأمر المرأة أن لا تخرج من بيت زوجها حتى يبلغ الكتاب أجله". "عب".