কানযুল উম্মাল (উর্দু)
حدود کا بیان
হাদীস নং: ১৩১১০
حدود کا بیان
زنا کی حد کے بیان میں۔۔۔ الإکمال
13110 تلوار بطور گواہ کافی ہے۔ لیکن مجھے خوف ہے کہ نشہ میں مبتلا اور غیرت (کے نام سے غصہ میں آنے) والے اس کی اتباع کریں گے۔ ابن ماجہ عن سلمۃ ابن المحیق
فائدہ : یعنی اگر کسی کو بدکاری کی حالت میں قتل کردیا تو یہ فعل غیرت کے زمرے میں آکر درست ہے لیکن کہیں اس کی آڑ میں ناجائز قتل کی رسم نہ پڑجائے جیسا کہ فی زمانہ کا روکاری اس کی مثال ہے۔
کلام : ابن ماجہ کتاب الحدود باب الرجل یجدمع امراتہ رجلاً رقم 2606 ۔
زوائد ابن ماجہ میں ہے کہ اس کی سند میں قبیصہ بن حریث ہے۔ امام بخاری (رح) فرماتے ہیں اس شخص کی حدیث میں نظر ہے۔ لیکن ابن حبان (رح) نے اس کو ثقات میں شمار کیا جبکہ اسناد کے باقی رجال سب ثقہ ہیں۔
فائدہ : یعنی اگر کسی کو بدکاری کی حالت میں قتل کردیا تو یہ فعل غیرت کے زمرے میں آکر درست ہے لیکن کہیں اس کی آڑ میں ناجائز قتل کی رسم نہ پڑجائے جیسا کہ فی زمانہ کا روکاری اس کی مثال ہے۔
کلام : ابن ماجہ کتاب الحدود باب الرجل یجدمع امراتہ رجلاً رقم 2606 ۔
زوائد ابن ماجہ میں ہے کہ اس کی سند میں قبیصہ بن حریث ہے۔ امام بخاری (رح) فرماتے ہیں اس شخص کی حدیث میں نظر ہے۔ لیکن ابن حبان (رح) نے اس کو ثقات میں شمار کیا جبکہ اسناد کے باقی رجال سب ثقہ ہیں۔
13110- كفى بالسيف شاهدا إني أخاف أن يتتابع في ذلك السكران والغيران "هـ عن سلمة ابن المحبق"