কানযুল উম্মাল (উর্দু)

حج اور عمرۃ کا بیان

হাদীস নং: ১২৫৬৪
حج اور عمرۃ کا بیان
فصل۔۔۔وقوف عرفہ میں
12564 حضرت علی (رض) سے مروی ہے ، ارشاد فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اکثر عرفہ کی رات عرفہ میں یہ دعا فرمایا کرتے تھے :

اللھم لک الحمد کالذی تقول وخیر امما تقول، اللھم لک صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی والیک مابی ولک رب تراثی، اللھم انی اعوذبک من عذاب القبر ورسوسۃ الصدر وشتات الامر، اللھم انی اعوذبک من شرما تجیء بہ الریاح۔

” اے اللہ ! تیرے لیے تمام تعریفیں ہیں، جیسا کہ تو نے خود اپنی حمد فرمائی اور جو ہم تیری تعریف بیان کرتے ہیں تو اس سے بہتر تعریفوں والا ہے، اے اللہ ! تیرے لیے میری نماز ہے، میرا حج ہے، میری زندگی اور موت سب تیرے لیے ہے، تیری طرف میرا واپسی کا ٹھکانا ہے اور میری باقیات سب تیرے لیے ہیں، اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے ، سینے کے وسوسوں سے اور معاملے کے بکھر جانے سے، اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس شر سے جس کو ہوائیں لے کر آتی ہیں۔ “

سنن الترمذی، وقال غریب من ھذا الوجہ ولیس اسنادہ بالقوی، ابن خزیمہ، المحاملی فی الدعاء، شعب الایمان للبیہقی ، بیہقی کے الفاظ آخر روایت میں یہ ہیں :

اللھم انی اسالک من خیر ماتجی بہ الریاح واعوذبک من شرما تجی، بہ الریاح

اے اللہ ! میں اس خیر کا سوال کرتا ہوں جس کو ہوائیں لے کر آتی ہیں اور اس شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس کو ہوائیں لے کر آتی ہیں۔
12564- عن علي قال: أكثر ما دعا به رسول الله صلى الله عليه وسلم عشية عرفة في الموقف: اللهم لك الحمد كالذي تقول وخيرا مما نقول، اللهم لك صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي وإليك مآبي ولك رب تراثي، اللهم إني أعوذ بك من عذاب القبر ووسوسة الصدر وشتات الأمر، اللهم إني أعوذ بك من شر ما تجيء به الريح. "ت وقال: غريب من هذا الوجه وليس إسناده بالقوي وابن خزيمة والمحاملي في الدعاء هب"1 ولفظه: اللهم إني أسألك من خير ما تجيء به الرياح، وأعوذ بك من شر ما تجيء به الرياح.
tahqiqতাহকীক:তাহকীক চলমান