কানযুল উম্মাল (উর্দু)
حج اور عمرۃ کا بیان
হাদীস নং: ১২৫১৭
حج اور عمرۃ کا بیان
آداب الطواف۔۔۔استلام
12517 سعید بن المسیب (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) حجر (اسود) کا استلام کرتے ہوئے جب تکبیر کہتے تو فرماتے :
بسم اللہ واللہ اکبر علی ماھدانا، ولا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ آمنت باللہ وکفرت بالجبت والطاغوت واللات والعزی ومایدعی من دون اللہ، ان ولیی اللہ الذی نزل الکتاب وھو یتولی الصالحین۔
اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اور اللہ سب بےسڑا ہے کہ اس نے ہمیں ہدایت بخشی، اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، میں اللہ پر ایمان لایا اور بت، شیطان، لات بت عزی بت اور ہر اس کا انکار اور کفر کیا جس کو اللہ کے سوا پکارا جاتا ہے، بیشک میرا دوست اللہ ہی ہے، جس نے کتاب کو نازل فرمایا اور وہ نیکوں کا مددگار دوست ہے۔ الازرقی
ابن ابی شیبہ نے بھی اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے۔
بسم اللہ واللہ اکبر علی ماھدانا، ولا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ آمنت باللہ وکفرت بالجبت والطاغوت واللات والعزی ومایدعی من دون اللہ، ان ولیی اللہ الذی نزل الکتاب وھو یتولی الصالحین۔
اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اور اللہ سب بےسڑا ہے کہ اس نے ہمیں ہدایت بخشی، اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، میں اللہ پر ایمان لایا اور بت، شیطان، لات بت عزی بت اور ہر اس کا انکار اور کفر کیا جس کو اللہ کے سوا پکارا جاتا ہے، بیشک میرا دوست اللہ ہی ہے، جس نے کتاب کو نازل فرمایا اور وہ نیکوں کا مددگار دوست ہے۔ الازرقی
ابن ابی شیبہ نے بھی اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے۔
12517- عن سعيد بن المسيب أن عمر بن الخطاب كان يقول إذا كبر لاستلام الحجر: بسم الله والله أكبر على ما هدانا، ولا إله إلا الله وحده لا شريك له آمنت بالله وكفرت بالجبت والطاغوت واللات والعزى وما يدعى من دون الله، إن وليي الله الذي نزل الكتاب وهو يتولى الصالحين. "الأزرقي" وروى "ش" بعضه.