কানযুল উম্মাল (উর্দু)
حج اور عمرۃ کا بیان
হাদীস নং: ১২৫০৪
حج اور عمرۃ کا بیان
ادعیہ۔۔۔دعائیں
12504 ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت اللہ کا طواف کیا پھر اپنا دست مبارک کعبۃ اللہ پر رکھا اور یہ دعا کی :
اللھم البیت بیتک ، ونحن عبیدک ونواصینا بیدک وتقلبنا فی قبضتک فان تعذبنا فبذنوبنا، وان تغفرلنا وبرحمتک فرضتک حجک لمن استطاع الیہ سبیلا فلک الحمد علی ماجعلب لنا من السبیل اللھم ارزقنا ثواب انشا کرین، الدیلمی۔
اے اللہ ! یہ گھر تیرا گھر ہے، اور ہم تیرے بندے ہیں اور ہماری پیشانیاں تیرے ہاتھ میں ہے، اور ہمارا گھر ناپھرنا آنا جانا تیری مٹھی میں ہے۔ اگر تو ہمیں عذاب دے تو واقعی ہمارے گناہوں کی وجہ سے دے گا اور اگر تو بخش دے تو یہ سراسر تیری رحمت ہوگی۔ تو نے اپنا حج فرض کیا ہے ہر اس شخص کے لیے جو اس کے راستے کی طاقت رکھے۔ پس تیرے لیے ہی تمام تعریفیں ہیں کہ تو نے ہمارے لیے اس راستے کو آسان کردیا۔ اے اللہ ! ہمیں شکر کرنے والوں کا ثواب عطا فرما۔ الدیلمی
کلام : مذکورہ روایت میں ایک راوی عبدالسلام بن الجنوب متروک راوی ہے۔
اللھم البیت بیتک ، ونحن عبیدک ونواصینا بیدک وتقلبنا فی قبضتک فان تعذبنا فبذنوبنا، وان تغفرلنا وبرحمتک فرضتک حجک لمن استطاع الیہ سبیلا فلک الحمد علی ماجعلب لنا من السبیل اللھم ارزقنا ثواب انشا کرین، الدیلمی۔
اے اللہ ! یہ گھر تیرا گھر ہے، اور ہم تیرے بندے ہیں اور ہماری پیشانیاں تیرے ہاتھ میں ہے، اور ہمارا گھر ناپھرنا آنا جانا تیری مٹھی میں ہے۔ اگر تو ہمیں عذاب دے تو واقعی ہمارے گناہوں کی وجہ سے دے گا اور اگر تو بخش دے تو یہ سراسر تیری رحمت ہوگی۔ تو نے اپنا حج فرض کیا ہے ہر اس شخص کے لیے جو اس کے راستے کی طاقت رکھے۔ پس تیرے لیے ہی تمام تعریفیں ہیں کہ تو نے ہمارے لیے اس راستے کو آسان کردیا۔ اے اللہ ! ہمیں شکر کرنے والوں کا ثواب عطا فرما۔ الدیلمی
کلام : مذکورہ روایت میں ایک راوی عبدالسلام بن الجنوب متروک راوی ہے۔
12504- عن ابن مسعود أن النبي صلى الله عليه وسلم طاف بالبيت ثم وضع يده عليه ودعا اللهم البيت بيتك، ونحن عبيدك ونواصينا بيدك وتقلبنا في قبضتك، فإن تعذبنا فبذنوبنا، وإن تغفر لنا فبرحمتك فرضت حجك لمن استطاع إليه سبيلا فلك الحمد على ما جعلت لنا من السبيل اللهم ارزقنا ثواب الشاكرين. "الديلمي" وفيه زبد السلام بن الجنوب متروك.