কানযুল উম্মাল (উর্দু)

حج اور عمرۃ کا بیان

হাদীস নং: ১২৪১৫
حج اور عمرۃ کا بیان
تلبیہ کب تک پڑھا جائے
12415 حضرت عکرمہ (رح) سے منقول ہے کہ میں حضرت حسین بن علی کے ساتھ مزدلفہ سے نکلا میں مسلسل آپ کو تلبیہ پڑھتے ہوئے سن رہا تھا : لبیک اللھم لبیک الخ، حتیٰ کہ آپ (رض) جمرۃ تک پہنچ گئے۔ میں نے پوچھا : اے ابو عبداللہ ! یہ اھلال کیا ہے ؟ ۔ یہ تلبیہ پڑھنا کیسا ہے ؟ تو آپ (رض) نے فرمایا : میں نے اپنے والد علی بن ابی طالب کو اسی طرح تلبیہ پڑھتے سنا تھا حتیٰ کہ آپ جمرۃ پر پہنچ گئے اور انھوں نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تلبیہ پڑھا حتیٰ کہ جمرۃ تک پہنچ گئے۔ عکرمہ کہتے ہیں کہ پھر میں حضرت ابن عباس (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کو حضرت حسین (رض) کی بات سنائی تو حضرت ابن عباس (رض) نے ارشاد فرمایا : انھوں نے سچ کہا۔ پھر مجھے حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اور مجھے میرے بھائی فضل بن عباس جو کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ردیف تھے۔

یعنی دوران حج حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سواری پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے میں نے بیان کیا کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے حتیٰ کہ آپ نے جمرۃ تک پہنچ کر اس کو ختم فرمادیا۔

مسند ابی یعلی، الطحاوی ، ابن جریر۔

ابن جریر نے مذکورہ روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔
12415- عن عكرمة قال: دفعت مع الحسين بن علي من المزدلفة فلم أزل أسمعه يقول: لبيك اللهم لبيك حتى انتهى إلى الجمرة، فقلت له: ما هذا الإهلال يا أبا عبد الله؟ قال: سمعت أبي علي بن أبي طالب يهل حتى انتهى إلى الجمرة، وحدثني أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أهل حتى انتهى إليها قال: فرجعت إلى ابن عباس فأخبرته بقول حسين فقال: صدق، قال: وأخبرني أخي الفضل بن عباس وكان رديف رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه لم يزل يهل حتى انتهى إلى الجمرة. "ع والطحاوي وابن جرير" وصححه.
tahqiqতাহকীক:তাহকীক চলমান