কানযুল উম্মাল (উর্দু)
حج اور عمرۃ کا بیان
হাদীস নং: ১২৩০৩
حج اور عمرۃ کا بیان
احکام حجۃ الوداع۔۔۔حجۃ الوداع کے احکامات
12303 اے لوگو ! آگاہ رہو ! سب سے زیادہ کس دن کی حرمت ہے ؟ کونسا دن سب سے زیادہ محترم ہے ؟ کونسا دن سب سے زیادہ حرمت والا ہے ؟ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا کہ : حج اکبر کا دن (سب سے زیادہ محترم ہے ؟ ) تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہ بیشک تمہارے خون (جان) تمہارے مال اور تمہاری آبرو تم پر ایسی ہی محترم (حرمت والی) ہیں جس طرح تمہارے اس شہر (مکہ) میں تمہارے اس مہینہ میں (ذی الحجہ) تمہارے اس دن (دسویں ذی الحجہ) میں محترم ہیں۔ یعنی جس طرح تم عرفہ کے دن، ذی الحج کے مہینہ میں اور مکہ مکرمہ میں قتل و غارت اور لوٹ مار کو حرام سمجھتے ہو اسی طرح ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اور ہر جگہ ایک مسلمان کی جان ومال دوسرے مسلمان پر حرام ہے لہٰذا تم میں سے کوئی بھی کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ کسی کا خون نہ کرے، کسی کا مال چوری ودغابازی سے نہ کھائے اور کسی کو کسی جانی اور مالی تکلیف و مصیبت میں مبتلا نہ کرے۔
خبردار ! یاد رکھو ! کوئی جنایت (جرم) کرنے والا جنایت نہیں کرتا مگر اپنی ہی جان پر (یعنی اس کا تاوان اسی پر عائد ہوگا) نہ والد اپنی اولاد پر جنایت کرتا اور نہ اولاد اپنے والد پر جنایت کرتی (جس نے کوئی نقصان یا جرم کیا اس کی چٹی اور تاوان خود اسی پر ہوگا) آگاہ رہو شیطان مایوس ہوگیا ہے کہ تمہارے اس شہر (مکہ ) میں اس کی عبادت کی جائے گی، لیکن تمہارے کچھ اعمال میں اس کی اطاعت کی جائے گی جن کو تم معمولی اور حقیر خیال کرو گے اور وہ اس پر راضی ہوجائے گا ، خبردار مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ پس کسی مسلمان کے لیے اس کے بھائی کی کوئی چیز حلال نہیں مگر یہ کہ وہ خود اس کے لیے کچھ حال کردے ۔ آگاہ رہو جاہلیت کا ہر سود ختم کیا جاتا ہے۔ اب تمہارے لیے صرف تمہارے اصل (راس المال) ہی ہیں۔ نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔ سوائے عباس بن عبدالمطلب کے سود وہ سارا ہی (بمع اصل المال) ختم کیا جاتا ہے۔ یونہی جاہلیت کے سارے خون آج معاف کردیئے گئے اور سب سے پہلا خون جس کو میں معاف کرتا ہوں وہ حارث بن عبدالمطلب کا خون ہے۔ خبردار ! عورتوں کے ساتھ خیر خواہی برتو، وہ تمہاری مددگاری ہیں ، تم ان کے اوپر کسی طرح زیادتی کے مالک نہیں ہو سوائے اس صورت کے کہ وہ کوئی کھلی بدکاری کی مرتکب ہوں۔ اگر وہ ایسا کچھ کریں تو ان سے بستر علیحدہ کرلو اور ایسی مار مارو جس کے نشانات نہ ہوں۔ پھر اگر وہ تمہاری اطاعت پر آجائیں تو پھر مارنے کے لیے بہانے تلاش نہ کرو۔ آگاہ رہو تمہارے اپنی عورتوں پر کچھ حقوق ہیں اور تمہاری عورتوں کے تم پر کچھ حقوق ہیں تمہارے حقوق عورتوں پر یہ ہیں کہ وہ تمہارے بستروں پر ایسے افراد کو نہ آنے دیں جن کو تم ناپسند کرتے اور نہ تمہارے گھروں میں تمہارے ناپسندیدہ لوگوں کو آنے دیں۔ آگاہ رہو ان کا تم پر یہ حق ہے کہ تم ان کے کھانے اور پہننے (وغیرہ ) میں ان کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کرو۔
خبردار ! یاد رکھو ! کوئی جنایت (جرم) کرنے والا جنایت نہیں کرتا مگر اپنی ہی جان پر (یعنی اس کا تاوان اسی پر عائد ہوگا) نہ والد اپنی اولاد پر جنایت کرتا اور نہ اولاد اپنے والد پر جنایت کرتی (جس نے کوئی نقصان یا جرم کیا اس کی چٹی اور تاوان خود اسی پر ہوگا) آگاہ رہو شیطان مایوس ہوگیا ہے کہ تمہارے اس شہر (مکہ ) میں اس کی عبادت کی جائے گی، لیکن تمہارے کچھ اعمال میں اس کی اطاعت کی جائے گی جن کو تم معمولی اور حقیر خیال کرو گے اور وہ اس پر راضی ہوجائے گا ، خبردار مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ پس کسی مسلمان کے لیے اس کے بھائی کی کوئی چیز حلال نہیں مگر یہ کہ وہ خود اس کے لیے کچھ حال کردے ۔ آگاہ رہو جاہلیت کا ہر سود ختم کیا جاتا ہے۔ اب تمہارے لیے صرف تمہارے اصل (راس المال) ہی ہیں۔ نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔ سوائے عباس بن عبدالمطلب کے سود وہ سارا ہی (بمع اصل المال) ختم کیا جاتا ہے۔ یونہی جاہلیت کے سارے خون آج معاف کردیئے گئے اور سب سے پہلا خون جس کو میں معاف کرتا ہوں وہ حارث بن عبدالمطلب کا خون ہے۔ خبردار ! عورتوں کے ساتھ خیر خواہی برتو، وہ تمہاری مددگاری ہیں ، تم ان کے اوپر کسی طرح زیادتی کے مالک نہیں ہو سوائے اس صورت کے کہ وہ کوئی کھلی بدکاری کی مرتکب ہوں۔ اگر وہ ایسا کچھ کریں تو ان سے بستر علیحدہ کرلو اور ایسی مار مارو جس کے نشانات نہ ہوں۔ پھر اگر وہ تمہاری اطاعت پر آجائیں تو پھر مارنے کے لیے بہانے تلاش نہ کرو۔ آگاہ رہو تمہارے اپنی عورتوں پر کچھ حقوق ہیں اور تمہاری عورتوں کے تم پر کچھ حقوق ہیں تمہارے حقوق عورتوں پر یہ ہیں کہ وہ تمہارے بستروں پر ایسے افراد کو نہ آنے دیں جن کو تم ناپسند کرتے اور نہ تمہارے گھروں میں تمہارے ناپسندیدہ لوگوں کو آنے دیں۔ آگاہ رہو ان کا تم پر یہ حق ہے کہ تم ان کے کھانے اور پہننے (وغیرہ ) میں ان کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کرو۔
12303- يا أيها الناس ألا أي يوم أحرم؟ أي يوم أحرم؟ أي يوم أحرم، قالوا: يوم الحج الأكبر، قال: فإن دماءكم وأموالكم وأعراضكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا في بلدكم هذا في شهركم هذا، ألا لا يجني جان إلا على نفسه، ألا ولا يجني والد على ولده ولا ولد على والده ألا إن الشيطان قد أيس أن يعبد في بلدكم هذا أبدا، ولكن سيكون له طاعة في بعض ما تحتقرون من أعمالكم فيرضى بها، ألا إن المسلم أخو المسلم فلا يحل لمسلم من أخيه شيء، إلا ما أحل من نفسه، ألا وإن كل ربا في الجاهلية موضوع، لكم رؤس أموالكم لا تظلمون ولا تظلمون غير ربا العباس بن عبد المطلب فإنه موضوع كله. وإن كل دم كان في الجاهلية موضوع، وأول دم أضع من دم الجاهلية دم الحارث ابن عبد المطلب، ألا واستوصوا بالنساء خيرا، فإنهن عوان عندكم، ليس تملكون منهن شيئا غير ذلك، إلا أن يأتين بفاحشة مبينة فإن فعلن فاهجروهن في المضاجع واضربوهن ضربا غير مبرح فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا، ألا وإن لكم على نسائكم حقا ولنسائكم عليكم حقا، فأما حقكم،على نسائكم، فلا يوطئن فرشكم من تكرهون ولا يأذن في بيوتكم من تكرهون، ألا وإن حقهن عليكم أن تحسنوا إليهن في كسوتهن وطعامهن. "ت ن هـ عن عمرو بن الأحوص".