কানযুল উম্মাল (উর্দু)
حج اور عمرۃ کا بیان
হাদীস নং: ১২২২৫
حج اور عمرۃ کا بیان
الاحصار
12225 جس شخص کا پاؤں ٹوٹ جائے یا وہ مریض ہوجائے یا وہ لنگڑا ہوجائے تو وہ حلال ہوگیا (یعنی اس کے لیے جائز ہے کہ وہ احرام کھول دے اور اپنے گھر واپس جائے) لیکن آئندہ سال اس پر واجب ہوگا۔ رواہ احمد فی مسندہ وابوداؤد والترمذی والنسائی وابن ماجہ والحاکم فی المستدرک عن الحجاج بن عمر بن خزیۃ (رض) ۔
نوٹ : احصار کے معنی لغت کے اعتبار سے تو ” روک لیا جانا “ ہیں، اور اصطلاح فقہ میں ” احرام باندھ لینے کے بعد حج یا عمرہ سے روکا جانا ” احصار “ کہلاتا ہے۔
اس کی کئی صورتیں ہیں :
1 ۔ کسی دشمن کا خوف 2 ۔ بیماری لاحق ہو 3 ۔ عورت کا محرم نہ رہے۔
4 ۔ خرچہ وغیرہ کم ہوجائے۔ 5 ۔ عورت پر عدت لازم ہوجائے۔
6 ۔ راستہ بھول جائے۔ 7 ۔ عورت کو اس کا شوہر منع کردے ، بشرطیکہ اس نے حج کا احرام شوہر کی اجازت کے بغیر باندھا ہو۔ 8 ۔ لونڈی یا غلام کو اس کا آقا منع کردے۔
نوٹ : احصار کے معنی لغت کے اعتبار سے تو ” روک لیا جانا “ ہیں، اور اصطلاح فقہ میں ” احرام باندھ لینے کے بعد حج یا عمرہ سے روکا جانا ” احصار “ کہلاتا ہے۔
اس کی کئی صورتیں ہیں :
1 ۔ کسی دشمن کا خوف 2 ۔ بیماری لاحق ہو 3 ۔ عورت کا محرم نہ رہے۔
4 ۔ خرچہ وغیرہ کم ہوجائے۔ 5 ۔ عورت پر عدت لازم ہوجائے۔
6 ۔ راستہ بھول جائے۔ 7 ۔ عورت کو اس کا شوہر منع کردے ، بشرطیکہ اس نے حج کا احرام شوہر کی اجازت کے بغیر باندھا ہو۔ 8 ۔ لونڈی یا غلام کو اس کا آقا منع کردے۔
12225- من كسر أو مرض أو عرج فقد حل وعليه حجة أخرى من قابل. "حم 4 ك عن الحجاج بن عمر بن غزية".