কানযুল উম্মাল (উর্দু)
حج اور عمرۃ کا بیان
হাদীস নং: ১২০৯৮
حج اور عمرۃ کا بیان
عرفہ کے دن کی فضیلت، ذکر و اذکار اور اس دن میں روزہ رکھنے کا بیان
12098 بیشک اللہ بزرگ و برتر نے عرفات والوں پر احسان فرمایا ہے، کہ فرشتوں کے سامنے حاجیوں پر فخر کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ ذرا میرے بندوں کی طرف تو دیکھو، یہ میرے پاس پراگندہ بال گرد آلود دور دور مقامات سے آئے ہیں، میں تمہیں اس بات پر گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کی دعا قبول کرلی ہے، اور ان کی رغبت کو دو گنا کردیا ہے اور ان کے نیکوکاروں کی بدولت ان کے گناہ گاروں کو عطا فرمایا : اور ان کے نیکوکاروں نے جو کچھ مجھ سے مانگا سوائے ان کے آپس کے جھگڑوں کے میں نے وہ سب عطا فرمادیا، یہاں تک کہ جب (حجاج کرام) کی جماعت عرفات سے واپس ہو کر مزدلفہ آجاتی ہے اور وہاں قیام کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ (فرشتوں سے) ارشاد فرماتا ہے کہ : اے میرے فرشتو ! میرے بندوں کو تو دیکھو جو مجھ سے بار بار سوال کررہے ہیں، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کے میں نے ان کی دعا قبول کرلی ہے اور ان کی رغبت کو دو گنا کردیا ہے، اور ان کے نیکوکاروں کی بدولت ان کے گناہ گاروں کو بھی عطا فرمایا ہے، اور ان کے نیک لوگوں نے جو مانگا میں نے وہ دیا۔ رواہ الخطیب فی المتفق عن انس (رض) ۔
کلام : اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔
کلام : اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔
12098- إن الله عز وجل تطول على أهل عرفات، فباهى بهم الملائكة فقال: انظروا يا ملائكتي إلى عبادي شعثا غبرا أقبلوا يضربون إلي من كل فج عميق أشهدكم أني قد أجبت دعوتهم، وشفعت رغبتهم ووهبت مسيئهم لمحسنهم، وأعطيت محسنهم جميع ما سألني غير التبعات التي بينهم حتى إذا أفاض القوم من عرفات، أتوا جمعا فوقفوا، قال: فانظروا يا ملائكتي إلى عبادي عاودوني في المسئلة، أشهدكم أني قد أجبت دعوتهم وشفعت رغبتهم ووهبت مسيئهم لمحسنهم، وأعطيت محسنهم جميع ما سأل، وتحملت عنهم التبعات التي بينهم. "الخطيب في المتفق والمفترق عن أنس" وضعف.