কানযুল উম্মাল (উর্দু)

حج اور عمرۃ کا بیان

হাদীস নং: ১২০৯৬
حج اور عمرۃ کا بیان
عرفہ کے دن کی فضیلت، ذکرواذکار اور اس دن میں روزہ رکھنے کا بیان
12096 جب عرفہ کا دن (نویں ذی الحجہ ) ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ مخلص حجاج کرام کی مغفرت فرما دیتے ہیں، اور جب جمرہ عقبہ کی رمی کا دن ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ سائلین کی مغفرت فرما دیتے ہیں، پس جو مخلوق اس موقف میں حاصر ہوتی ہے ان سب کی اللہ تعالیٰ مغفرت فرما دیتے ہیں ۔

رواہ ابن حبان فی صحیحہ ، فی الضعفاء وابن عدی فی الکامل والدار قطنی فی غرائب مالک والدیلمی عن ابوہریرہ (رض) ۔

کلام : امام دار قطنی (رح) نے فرمایا کہ یہ ” حدیث منکر “ ہے، الحسن بن علی ابوعبدالغنی الازدی اس میں متفردراوی ہیں (امام ابن حبان (رح)) نے فرمایا کہ : الحسن بن علی ثقات راویوں سے موضوع احادیث بیان کرتا ہے، اور ابن عدی (رح) کا کہنا ہے کہ اس نے ایسی احادیث روایت کی ہیں کہ جن کی متابعت نہیں کی جاسکتی، اور ان کا کہنا ہے کہ میں نے سوائے پانچ حدیثوں کے اس کی کوئی حدیث نہیں دیکھی، اور جو روایت کی ہیں وہ بھی محتمل ہیں (کہ اس میں بھی کذب سے کام لیا ہو کیونکہ) کتنے مجہول ہیں جو پانچ حدیثوں میں بھی جھوٹ بولنا چاہتے ہیں۔ اور علامہ ابن الجوزی نے اس حدیث کی موضوعات میں شمار کیا ہے۔ دیکھئے ترتیب الموضوعات 598، اللآلی 124/2 ۔
12096- إذا كان يوم عرفة غفر الله للحاج الخالص، فإذا كانت ليلة مزدلفة غفر الله للتجار، وإذا كان يوم منى غفر الله للجمالين، فإذا كان يوم رمي جمرة العقبة، غفر الله للسوال، فلا خلق يحضر ذلك الموقف إلا غفر الله له. "حب في الضعفاء عد قط في غرائب مالك كر والديلمي عن أبي هريرة" قال "قط": منكر تفرد به الحسن بن علي أبو عبد الغني الأزدي، وقال "حب": الحسن هذا يضع عن الثقات، وقال "عد": روى أحاديث لا يتابع عليها، وقال "كر" لم أر له من الأحاديث غير خمسة أحاديث وما رواه يحتمل وكم مجهول يريد أن يكذب في خمسة أحاديث وأورده ابن الجوزي هذا الحديث في الموضوعات.
tahqiqতাহকীক:তাহকীক চলমান