কানযুল উম্মাল (উর্দু)
حج اور عمرۃ کا بیان
হাদীস নং: ১২০৯৪
حج اور عمرۃ کا بیان
عرفہ کے دن کی فضیلت، ذکرواذکار اور اس دن میں روزہ رکھنے کا بیان
12094 اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں کوئی بھی مخلوق کہ جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو، عرفہ کے روز (نویں ذی الحجہ کو) اللہ رب العزت اس کی ضرور مغفرت فرما دیتے ہیں، کہا گیا کہ : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ بات صرف عرفات والوں کے لیے ہے یا تمام انسانوں کے لیے عام ہے ؟ تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ : یہ بات صرف عرفات والوں کے لیے خاص نہیں بلکہ عمومی طور پر تمام انسانوں کے لیے ہے۔ رواہ ابن ابی الدنیا فی فضل عشر ذی الحجہ وابن النجار عن ابن عمر (رض) ۔
کلام : اس حدیث کی سند میں ” الولید بن القاسم بن الولید “ نامی راوی ہے، ابن حبان (رح) نے کہا کہ اس حدیث سے استدلال نہیں کیا جاسکتا۔
کلام : اس حدیث کی سند میں ” الولید بن القاسم بن الولید “ نامی راوی ہے، ابن حبان (رح) نے کہا کہ اس حدیث سے استدلال نہیں کیا جاسکتا۔
12094- لا يبقى يوم عرفة خلق من خلق الله عز وجل في قلبه مثقال ذرة من الإيمان إلا غفر الله له، قيل: يا رسول الله لأهل عرفات أم للناس عامة؟ قال: لا بل للناس عامة. "ابن أبي الدنيا في فضل عشر ذي الحجة وابن النجار عن ابن عمر" وفيه الوليد بن القاسم بن الوليد، قال ابن حبان: لا يحتج به.