কানযুল উম্মাল (উর্দু)

حج اور عمرۃ کا بیان

হাদীস নং: ১২০৩৪
حج اور عمرۃ کا بیان
ادعیۃ الطواف۔۔۔طواف کے وقت کی دعائیں

من الاکمال
12034 جب اللہ تعالیٰ نیحضرت آدم (علیہ السلام) کو زمین پر اتارا تو انھوں نے بیت اللہ شریف کے سات چکر لگائے اور مقام ابراہیمی پر دو رکعت پڑھیں، پھر یوں دعا کی :

اے اللہ ! تو میرے ظاہر و باطن کو جانتا ہے پس تو میری معذرت قبول کرلے، تجھے میری حاجت معلوم ہے پس میرا سوال پورا کردے، تو جانتا ہے کہ میرے پاس کیا ہے، پس میرے گناہوں کو بخش دے، میں تجھ سے ایسے ایمان کا سوال کرتا ہوں جو میرے قلب میں جاں گزیں ہو، اور ایسا سچا یقین مانگتا ہوں کہ میں جان لوں کو جو کچھ بھی مجھے لاحق ہوگا وہ میرے حق میں لکھ دیا گیا ہے، اور اپنی قضا وقدر پر مجھے راضی رہنے کی توفیق عطا فرما، تو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ اے آدم ! بیشک تو نے مجھے ایسی دعا کے ذریعہ پکارا ہے جو تمہارے حق میں قبول کرلی گئی ہے، اور میں نے تمہاری خطاؤں کو معاف کردیا ہے، اور تمہارے غموں کو دور کردیا ہے، اور تمہاری اولاد میں سے جو بھی ان الفاظ کے ساتھ دعا مانگے گا تو میں ضرور اس کے ساتھ یہ ہی معاملہ کروں گا۔ جو تمہارے ساتھ کیا کہ دعا قبول کی، مغفرت کی، اور غموں کو دور کیا اور اس کی آنکھوں کے سامنے سے اس کا فقروفاقہ کھینچ لوں گا، اور اس کے لیے ہر تاجر کے پیچھے سے تجارت کروں گا، اور دنیا اس کے پاس اس کے نہ چاہتے ہوئے بھی ذلیل ہو کر آئے گی۔

رواہ الازرمی، والطبرانی فی الاوسط والبخاری ومسلم فی الدعوات وابن عساکر عن بریدۃ (رض) ۔
12034- لما أهبط الله آدم إلى الأرض طاف بالبيت سبعا، وصلى خلف المقام ركعتين، ثم قال: اللهم إنك تعلم سري وعلانيتي فاقبل معذرتي، وتعلم حاجتي فأعطني سؤلي، وتعلم ما عندي فاغفر لي ذنوبي، أسألك إيمانا يباشر قلبي ويقينا صادقا حتى أعلم أنه لا يصيبني إلا ما كتب لي ورضني بقضائك فأوحى الله إليه يا آدم إنك قد دعوتني بدعاء استجيب لك فيه وغفرت ذنوبك وفرجت همومك وغمومك، ولن يدعو به أحد من ذريتك من بعدك إلا فعلت ذلك به ونزعت فقره من بين عينيه واتجرت له من وراء كل تاجر، وأتته الدنيا وهي كارهة وإن لم يردها. "الأزرقي طس ق في الدعوات وابن عساكر عن بريدة".
tahqiqতাহকীক:তাহকীক চলমান