কানযুল উম্মাল (উর্দু)
توبہ کا بیان
হাদীস নং: ১০২৫০
توبہ کا بیان
تکلملہ
10246 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اللہ تعالیٰ ہر روز اپنے بندے پر نصیحت کی ایک بات پیش کرتے ہیں اگر وہ قبول کرلے تو نیک بخت ہوجاتا ہے اور اگر ترک کردے تو بدبخت ہوتا ہے، بیشک اللہ تعالیٰ رات کو اپنا ہاتھ پھیلاتے ہیں تاکہ دن میں جس سے گناہ ہوا ہے وہ توبہ کرلے، سو اگر وہ توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلیتے ہیں، اور بیشک حق بہت وزنی ہوتا ہے کیونکہ قیامت کے دن بھی حق بھاری ہوتا ہے اور باطل ہلکا ہوتا ہے۔ اور جنت ناپسندیدہ چیزوں سے گھری ہوئی ہے اور دوزخ پسندیدہ چیزوں سے۔ (ابن شاھین عن ابن جریج عن ابن شھاب مرسلاً ، عن ابن جریح عن عطاء عن جابر (رض))
فائدہ :۔۔۔ باقی باتیں تو حدیث کی واضح ہیں البتہ جنت کا ناپسندیدہ چیزوں سے گھرے ہوئے ہونے سے مراد وہ چیزیں ہیں جو نفس کو بری لگتی ہیں اور شاق گزرتی ہیں جیسے فرائض، واجبات مستحبات یعنی جسے فجر کی نماز جو نفس کو شاق گزرتی ہے، بدنظری سے پرہیز وغیرہ وغیرہ ۔ اور دوزخ کا پسندیدہ چیزوں میں گھرے ہونے سے بھی یہی مراد ہے یعنی دوزخ ان چیزوں سے گھری ہوئی ہے جو نفس کو بہت مرغوب ہوتی ہیں، مثلاً نماز نہ پڑھنا، لہو ولعب میں مشغول رہنا، بدنظری، ٹی وی ، سنیما بین، جھوٹ، غیبت، رشوت، چوربازاری وغیرہ وغیرہ “۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
فائدہ :۔۔۔ باقی باتیں تو حدیث کی واضح ہیں البتہ جنت کا ناپسندیدہ چیزوں سے گھرے ہوئے ہونے سے مراد وہ چیزیں ہیں جو نفس کو بری لگتی ہیں اور شاق گزرتی ہیں جیسے فرائض، واجبات مستحبات یعنی جسے فجر کی نماز جو نفس کو شاق گزرتی ہے، بدنظری سے پرہیز وغیرہ وغیرہ ۔ اور دوزخ کا پسندیدہ چیزوں میں گھرے ہونے سے بھی یہی مراد ہے یعنی دوزخ ان چیزوں سے گھری ہوئی ہے جو نفس کو بہت مرغوب ہوتی ہیں، مثلاً نماز نہ پڑھنا، لہو ولعب میں مشغول رہنا، بدنظری، ٹی وی ، سنیما بین، جھوٹ، غیبت، رشوت، چوربازاری وغیرہ وغیرہ “۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
10250 إن الله تعالى يعرض على عبده في كل يوم نصيحة ، فان هو قبلها سعد ، وإن تركها شقي ، فان الله باسط يده بالليل لمسئ النهار ليتوب ، فان تاب ، تاب الله عليه ، وباسط يده بالنهعار لمسئ الليل ليتوب فان تاب ، تاب الله عليه ، وإن الحق لثقيل لثقله يوم القيامة ، وإن الباطل لخفيف لخفته يوم القيامة ، وإن الجنة محظور عليها بالمكاره ، وإن النار محظور عليها بالشهوات.
(كر وابن شاهين عن ابن جريج عن ابن شهاب) مرسلا (طس عن ابن جريج عن عطاء عن جابر).
(كر وابن شاهين عن ابن جريج عن ابن شهاب) مرسلا (طس عن ابن جريج عن عطاء عن جابر).