কানযুল উম্মাল (উর্দু)
خرید وفروخت کا بیان
হাদীস নং: ১০১৪৪
خرید وفروخت کا بیان
ردی کھجور بھی برابر بیچی جائے
10140 ۔۔۔ امام مالک فرماتے ہیں کہ انھیں معلوم ہوا کہ ایک شخص حضرت ابن عمر (رض) کے پاس آیا اور کہا کہ اے ابوعبد الرحمن ! میں نے ایک شخص کو ادھار دیا ہے اور یہ شرط مقرر کی ہے کہ جب وہ مجھے ادھار واپس کرے تو جو چیز اس نے مجھ سے لی تھی اس سے زیادہ عمدہ چیز واپس کرے گا، حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ یہ تو سود ہے “۔ اس شخص نے پھر پوچھا، تو آپ مجھے کیا مشورہ دیں گے ؟ تو حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ ادھار کی تین قسمیں ہوتی ہیں، اول وہ ادھار جس سے تم اللہ کی رضا حاصل کرنا چاہو، اس سے تو تمہیں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوجائے گی، دوم وہ ادھار جس سے تم اللہ کی رضا حاصل کرنا چاہو، اس سے تو تمہیں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوجائے گی، دوم وہ ادھار جس سے تم اپنے ساتھی کی رضا مندی حاصل کرنا چاہو، تو اس سے تمہیں اپنے ساتھ ہی کی رضا مندی حاصل ہوگی، اور سوم وہ ادھار جو تو نے دیا تاکہ اچھی چیز کے بدلے بری چیز حاصل کرے، اس نے پھر کہا کہ پھر آپ مجھے کیا مشورہ دیں گے ؟ تو حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا میرا خیال ہے کہ تم اپنے شرط نامے کو پھاڑدو، پھر اگر اس نے تمہیں وہی دیا جیسا تم نے دیا تھا توٹھیک اور اگر تمہاری چیز سے کم درجے کی دی اور تم نے لے لی تو تمہیں اجر دیا جائے گا، اور اگر اس نے تمہیں تمہاری چیز سے عمدہ چیز دی، اپنی رضامندی سے تو یہ شکر ہوگا جو اس نے تمہارا ادا کیا ہے اور وہی اجر ہے جس کا تمہیں انتظار تھا “۔ (عبدالرزاق)
10144 عن مالك أنه بلغه أن رجلا أتى ابن عمر ، فقال له : يا أبا عبد الرحمن إني أسلفت رجلا سلفا ، واشترطت عليه قضاء أفضل مما أسلفته ، فقال ابن عمر : ذلك الربا ، قال : فكيف تأمرني ؟ قال : السلف على ثلاثة وجوه ، سلف تريد به وجه الله ، فلك وجه الله : وسلف تريد به وجه صاحبه فليس لك إلا وجهه ، وسلف أسلفت لتأخذ خبيثا بطيب قال : فكيف تأمرني ؟ قال : أرى أن تشق صكك ، فان أعطاك مثل الذي أسلفته قبلت ، وإن أعطاك دون ما أسلفته فأخذته أجرت وإن أعطاك أفضل مما أسلفته طيبة به نفسه فذلك شكر شكره لك ، وهو أجر ما أنظرته.(عب).