কানযুল উম্মাল (উর্দু)
خرید وفروخت کا بیان
হাদীস নং: ১০১০৯
خرید وفروخت کا بیان
تر کھجور کو خشک کے عوض فروخت کرنا ممنوع ہے
10105 ۔۔۔ ابن جریج عطاء سے ، وہ سعید بن المسیب سے اور وہ حضرت عمر (رض) سے اور وہ حضرت بلال (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کھجوریں میرے پاس تھیں وہ کچھ خراب ہونے لگیں تو میں بازار لے گیا اور دو صاع کے بدلے ایک صاع دوسری (عمدہ) کھجور لے آیا، اور جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں پیش کیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا کہ اے بلال ! یہ کیا ہے ؟ تو میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تمام تفصیلات سے آگاہ کیا، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، ٹھہرو، تم نے توسودی معاملہ کرلیا، اپنی بیع کو لوٹاؤ پھر کھجوروں کو سونے، چاندی یا گندم کے بدلے بیچو اور اس سے دوبارہ دوسری کھجوریں خریدلو، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کھجور کے بدلے کھجوربرابر سرابر، گندم کے بدلے گندم برابرسرابر، سونے کے بدلے سونا ہم وزن مقدار میں، اور چاندی کے بدلے چاندی ہم وزن مقدار میں (بیچی جائے گی) اور جب خریدی جانے والی چیز بیچی جانے والی چیز کے مقابلے میں الگ ہو تو جائز ہے خواہ ایک دس کے بدلے ہو “۔ (طبرانی، ابو نعیم)
10109 عن ابن جريج عن عطاء عن سعيد بن المسيب عن عمر ابن الخطاب عن بلال قال : كان لرسول الله صلى الله عليه وسلم عندي تمر فتغير ، فأخرجته إلى السوق فبعته صاعين بصاع ، فلما قربت إليه منه قال :ما هذا يا بلال ؟ فاخبرته ، فقال : مهلا أربيت ، اردد البيع ، ثم بع تمرا بذهب أو فضة أو حنطة ، ثم اشتر به تمرا ، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : التمر بالتمر مثلا بمثل ، والحنطة مثلا ، والذهب بالذهب وزنا بوزن ، والفضة وزنا بوزن ، فإذا اختلف النوعان فلا بأس واحد بعشرة.(طب وأبو نعيم).