কানযুল উম্মাল (উর্দু)
خرید وفروخت کا بیان
হাদীস নং: ১০০৭৬
خرید وفروخت کا بیان
باب۔۔۔ ذخیرہ اندوزی اور نرخ مقرر کرنے کے بیان میں
ذخیرہ اندوزی
ذخیرہ اندوزی
10072 ۔۔۔ حضرت قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) حضرت حاطب (رض) کے پاس سے سوق مصلیٰ سے گزرے، تو وہاں دو بڑے ٹوکرے دیکھے جن میں کشمش رکھی ہوئی تھی، آپ (رض) نے کشمش کے نرخ دریافت فرمائے، تو حضرت حاطب نے کشمش کے نرخ ایک درھم کے بدلے دومد بتائے، تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا مجھے طائف سے آنے والے ایک قافلے کی اطلاع ملی ہے جو کشمش لے کر آرہے ہیں، وہ بھی آپ کے نرخ کا اعتبار کریں گے تو یا تو اپنے نرخ کچھ بڑھاؤ، یا پھر اپنی کشمش کو گھر لے جاؤ اور جیسے چاہو بیچو، پھر جب حضرت عمر (رض) واپس روانہ ہوئے تو اپنے نفس کا محاسبہ شروع کردیا چنانچہ پھر حضرت حاطب (رض) کے گھر تشریف لائے اور ان سے فرمایا کہ میں نے آپ سے جو کہا نہ ہی وہ کسی مضبوط ارادے کے تحت تھا اور نہ ہی اس سے کوئی بوجھ چکانا مراد تھا، بلکہ وہ تو صرف ایک چیز تھی جس سے میں نے گھر والوں کے لیے بھلائی کا ارادہ کیا تھا لہٰذا جہاں توچا ہے بیچ اور جیسے توچا ہے بیچ۔ (الشافعی فی السنن، متفق علیہ)
10076 عن القاسم بن محمد أن عمر مر بحاطب بسوق المصلى وبين يديه غرارتان فيهما زبيب ، فسأله عن سعرهما ، فسعر مدين بكل درهم ، فقال له عمر : قد حدثت بعير مقبلة من الطائف تحمل زبيبا ، وهم يعتبرون بسعرك ، فاما أن ترفع في السعر ، وإما أن تدخل زبيبك البيت فتبيعه كيف شئت ، فلما رجع عمر حاسب نفسه ، ثم أتى حاطبا في داره ، فقال له : إن الذي قلته ليس بعزمة ولا قضاإ ، وانما هو شئ أردت به الخير لاهل البيت ، فحيث شئت فبع ، وكيف شئت فبع.(الشافعي في السنن ق).