কানযুল উম্মাল (উর্দু)

خرید وفروخت کا بیان

হাদীস নং: ৯৯৫৩
خرید وفروخت کا بیان
عیب کی وجہ سے معاملہ ختم کرنا
9949 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت بشیر غفاری (رض) نے جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کچھ وقت طے کر رکھا تھا جو وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں گزارتے تھے، ایک مرتبہ تین دن گزرنے کے باوجود وہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضر نہ ہوئے، پھر جب حاضر ہوئے تو دبلے ہورہے تھے اور چہرے کا رنگ بھی بدلا ہوا تھا، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا، اے بشیر ! کیا ہوا ؟ تین دن سے میں نے آپ کو نہیں دیکھا، تو عرض کرنے لگے، یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان، میں نے فلاں شخص سے ایک اونٹ خریدا تھا جو بدک گیا اور بھاگ گیا، میں اس کو ڈھونڈنے نکلا، اس اونٹ کو بنو فلاں (فلاں قبیلے والوں) نے روک لیا تھا، میں نے ان سے لیا اور بیچنے والے کو واپس کردیا، اس نے مجھ سے قبول کرلیا اور مجھ سے پالیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔۔۔ بھاگے ہوئے اونٹ کو واپس کیا جاتا ہے ؟ پھر فرمایا کہ یہ بدلی ہوئی رنگت اور کمزوری جو میں تمہارے اندر دیکھ رہا ہوں، اسی وجہ ہے ؟ حضرت بشیر (رض) نے عرض کیا جی ہاں، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تو اس دن کیا کروگے جب سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے، جس کی مقدار دنیا کے سالوں کے مطابق تین سو سال ہے، جن کے پاس آسمان سے کوئی اطلاع نہ آئے گی ؟ حضرت بشیر (رض) نے فرمایا، یا رسول اللہ ! مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہوگی، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب تم اپنے بستر پر لیٹو تو قیامت کے دن کی سختی کی اللہ سے پناہ مانگو اور حساب کی سختی سے اللہ کی پناہ مانگو “۔ (حسن بن سفیان شاھین اور ابن مردویہ اور ابو نعیم)
9953- عن أبي هريرة "أن بشيرا الغفاري كان له مقعد من رسول الله صلى الله عليه وسلم ففقده ثلاثة أيام، ثم جاء شاحبا لونه، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا بشير ما لك لم نرك عندي منذ ثلاثة أيام؟ فقال: بأبي أنت وأمي يا رسول الله اشتريت من فلان جملا فشرد علي، وكنت في طلبه فحبسه علي بنو فلان، فأخذته فرددته على صاحبه، فقبله مني، فنال مني فقال النبي صلى الله عليه وسلم: أما إن البعير الشرود يرد منه، ثم قال: إن هذه الشحوبة التي أرى بك منذ ثلاثة أيام؟ قال: نعم، قال: فكيف تصنع بيوم يقوم الناس لرب العالمين فيه، مقدار ثلثمائة سنة من أيام الدنيا، لا يأتيهم خبر من السماء؟ قال بشير: المستعان الله يا رسول الله، فقال له: إذا آويت إلى فراشك فتعوذ بالله من كرب يوم القيامة، وتعوذ بالله من سوء الحساب". "الحسن بن سفيان وابن شاهين وابن مردويه وأبو نعيم"وفيه عبد السلام بن عجلان ضعيف. ومر برقم "9701".
tahqiqতাহকীক:তাহকীক চলমান