কানযুল উম্মাল (উর্দু)
خرید وفروخت کا بیان
হাদীস নং: ৯৯১০
خرید وفروخت کا بیان
جھکا کر تولنا باعث برکت ہے
9906 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) اپنا اونٹ بیچنے آیا، حضرت عمر (رض) اس کے پاس آئے اور بھاؤ تاؤ کرنے لگے، اسی دوران حضرت عمر (رض) اپنے پیر سے آہستہ آہستہ مار کر اونٹ کو دیکھنے گئے تاکہ اچھی طرح جانچ پڑتا کرسکیں، اعرابی کہنے لگا، میرے اونٹ کا پیچھا چھوڑدو، تیرا باپ نہ رہے، لیکن حضرت عمر (رض) نے اس کی باتوں پر کان نہ دھرا اور اپنے کام میں لگے رہے، (یہ دیکھ کر) اعرابی کہنے لگا میں تمہیں کوئی اچھا انسان نہیں سمجھتا، حضرت عمر (رض) جب فارغ ہوئے تو اونٹ کو خرید لیا اور کہا اس کو چلاؤ اور اس کی قیمت وصول کرلو، اعرابی بولا ہاں لیکن ذرا میں اس کی جھول وغیرہ اتارلوں تو حضرت عمر (رض) بولے کہ میں نے تواونٹ وان سب چیزوں سمیت خریدا ہے چنانچہ جس طرح اونٹ میرا ہے یہ چیزیں بھی میری ہیں، اعرابی بولا میں گواہی دیتا ہوں کہ تو اچھا آدمی نہیں ہے ، ابھی یہ بحث چل ہی رہی تھی کہ حضرت علی (رض) پہنچے، حضرت عمر (رض) نے اعرابی سے کہا کہ اگر ہم اس شخص سے فیصلہ کروالیں گے تو تم راضی ہوگے، وہ بولا ہاں، چنانچہ دونوں نے اپنے واقعہ کی تفصیلات حضرت علی (رض) سے بیان کیں تو حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا کہ اے امیر المومنین ! اگر آپ نے جھول وغیرہ کی شرط پہلے ہی لگالی تھی تو یہ آپ کی ہیں شرط کے مطابق ورنہ پھر کوئی بھی شخص اپنے سامان کو اس کی قیمت سے زیادہ سجاتا سنوارتا ہی ہے، چنانچہ اونٹ سے جھول وغیرہ اتارلی گئیں اور اعرابی کے حوالے کردی گئیں اور حضرت عمر (رض) نے اونٹ کی قیمت اعرابی کو ادا کردی “۔
9910- عن أنس بن مالك "أن أعرابيا جاء بإبل له يبيعها، فأتاه عمر يساومه فجعل عمر ينخس بعيرا بعيرا يضربه برجله ليبعث البعير لينظر كيف فؤاده، فجعل الأعرابي يقول: خل إبلي، لا أبالك، فجعل عمر لا ينهاه قول الأعرابي أن يفعل ذلك ببعير بعير، فقال الأعرابي لعمر: إني لأظنك رجل سوء فلما فرغ منها اشتراها، فقال: سقها وخذ أثمانها فقال الأعرابي: حتى أضع عنها أحلاسها وأقتابها، فقال عمر: اشتريتها وهي عليها فهي لي كما اشتريتها، قال الأعرابي أشهد أنك رجل سوء، فبينما يتنازعان إذ أقبل علي، فقال عمر ترضى بهذا الرجل بيني وبينك؟ فقال الأعرابي: نعم، فقصا على علي قصتهما، فقال علي: يا أمير المؤمنين إن كنت اشترطت عليه أحلاسها وأقتابها فهي لك كما اشترطت، وإلا فإن الرجل يزين سلعته بأكثر من ثمنها فوضع عنها أحلاسها وأقتابها، فساقها الأعرابي فدفع إليه عمر الثمن". "عق".