সহীফায়ে হাম্মাম ইবনে মুনাব্বিহ (উর্দু)
ا ب ج
হাদীস নং: ৫১
ا ب ج
جنت اور دوزخ کا مکالمہ
اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (ایک مرتبہ) جنت اور آگ (دوزخ) آپس میں حجت کرنے لگے۔ دوزخ نے کہا : مجھے مغرور اور ظالم لوگوں کی قیام گاہ بننے کے لیے مجھے ترجیح دی گئی ہے اور جنت نے کہا : کیا بات ہے کہ مجھ میں ضعیفوں اور پست اور بھولے لوگوں کے سوائے اور کوئی داخل نہ ہوگا اس پر اللہ نے جنت سے کہا : تو میری رحمت ہے میں تیرے ذریعہ سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہوں رحم کروں گا، اور دوزخ سے کہا : تو میرا عذاب ہے، میں تیرے ذریعہ سے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہوں عذاب دوں گا اور تم میں سے ہر ایک بھر جائے گی لیکن دوزخ اس وقت نہ بھرے گی جب تک کہ اللہ اس میں اپنا پآں نہ رکھ دے پھر (دوزخ) کہے گی : بس، بس وہ اس وقت بھر جائے گی اور اس کا ایک حصہ دوسرے سے مل جائے گا اور اللہ اپنی مخلوق میں (4/ب) کسی پر ظلم نہیں کرتا، رہی جنت تو اس کے لیے اللہ عزوجل ایک مخلوق پیدا کرے گا۔
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَحَاجَّتِ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ، فَقَالَتِ النَّارُ: أُوثِرْتُ بِالْمُتَكَبِّرِينَ وَالْمُتَجَبِّرِينَ، وَقَالَتِ الْجَنَّةُ: فَمَا لِيَ لَا يُدْخِلُنِي إِلَّا ضُعَفَاءُ النَّاسِ وَسَقَطُهُمْ وَغِرَّتُهُمْ. فَقَالَ اللَّهُ لِلْجَنَّةِ: إِنَّمَا أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي، وَقَالَ لِلنَّارِ: إِنَّمَا أَنْتِ عَذَابِي أُعَذِّبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي، وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا مِلْؤُهَا، فَأَمَّا النَّارُ فَلَا تَمْتَلِئُ حَتَّى يَضَعَ اللَّهُ فِيهَا رِجْلَهُ، فَتَقُولُ: قَطْ قَطْ فَهُنَالِكَ تَمْتَلِئُ وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ وَلَا يَظْلِمُ اللَّهُ مِنْ خَلْقِهِ أَحَدًا، وَأَمَّا الْجَنَّةُ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنْشِئُ لَهَا خَلْقًا