মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

جمعہ کا بیان

হাদীস নং: ৮৮১৯
جمعہ کا بیان
قرآن مجید کی قراءت کا بیان
(٨٨١٩) حضرت ابو وائل کہتے ہیں کہ بنو بجیلہ کا ایک آدمی جس کا نام نہیک بن سنان تھا وہ حضرت ابن مسعود کے پاس آیا، اس نے کہا کہ اے ابو عبدالرحمن ! آپ اس لفظ کو کیسے پڑھیں گے یاء کے ساتھ یا الف کے ساتھ یعنی { مِنْ مَائٍ غَیْرِ یَاسِنٍ } پڑھیں گے یا { مِنْ مَائٍ غَیْرِ آسِنٍ } حضرت عبداللہ نے اس سے فرمایا کہ کیا تم نے اس مقام کے علاوہ باقی سارا قرآن مجید یاد کرلیا اور سمجھ لیا ہے ؟ اس نے کہا کہ میں ایک رکعت میں مفصل کی تلاوت کرتا ہوں۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ تم اشعار کی طرح قرآن کو بھی بغیر سوچے سمجھے پڑھتے ہو ! بعض لوگ ایسے ہیں جو قرآن کی تلاوت تو کرتے ہیں لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتا، قرآن نفع تب دے گا جب دل میں اتر کر راسخ ہوجائے۔ افضل نماز وہ ہے جس میں ر کو ع اور سجدے زیادہ ہوں۔ حضرت عبداللہ نے یہ بھی فرمایا کہ میں ان سورتوں کو جانتا ہوں جنہیں نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تلاوت فرمایا کرتے تھے۔
(۸۸۱۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِی وَائِلٍ ، قَالَ : جَائَ رَجُلٌ مِنْ بَنِی بَجِیلَۃَ ، یُقَالُ لَہُ : نَہِیکُ بْنُ سِنَانٍ إلَی ابْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، کَیْفَ تَقْرَأُ ہَذَا الْحَرْفَ ، أَیَائً تَجِدُہُ ، أَمْ أَلِفًا ؟ {مِنْ مَائٍ غَیْرِ یَاسِنٍ} ، أَوْ {مِنْ مَائٍ غَیْرِ آسِنٍ} ؟ قَالَ : فَقَالَ لَہُ عَبْدُ اللہِ : وَکُلَّ الْقُرْآنِ أَحْصَیْتَ غَیْرَ ہَذَا ؟ قَالَ : فَقَالَ لَہُ : إنِّی لأَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ فِی رَکْعَۃٍ ، قَالَ : ہَذًّا کَہَذِّ الشِّعْرِ ، إنَّ قَوْمًا یَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ لاَ یَتَجَاوَزُ تَرَاقِیَہُمْ ، وَلَکِنَّ الْقُرْآنَ إذَا وَقَعَ فِی الْقَلْبِ فَرَسَخَ نَفَعَ ، إنَّ أَفْضَلَ الصَّلاَۃ الرُّکُوعُ وَالسُّجُودُ ، قَالَ : وَقَالَ عَبْدُاللہِ: إنِّی لأَعْرِفُ النَّظَائِرَ الَّتِی کَانَ یَقْرَأُ بِہِنَّ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔(بخاری۷۷۵۔ مسلم ۲۷۶)
tahqiqতাহকীক:তাহকীক চলমান